ہفتہ، 3 اگست، 2019

کوالٹی ایجوکیشن کے لیے تحصیل پبلک سکول نورپور تھل کا قیام لایا جائےگا

Image may contain: 12 people, people standing, wedding and outdoor
خوشاب نیوز ڈاٹ کام)    رکن قومی اسمبلی   ملک محمد احسان اللہ خان ٹوانہ نے کہا ہے کہ ہم نے تحصیل نورپورتھل میں کوالٹی آف ایجوکیشن کی بہتری کے لیےتحصیل پبلک سکول نورپورتھل کاقیام عمل میں لانا تھا۔ ان خیالات کااظہار انہوں نےےتحصیل پبلک سکول  نورپورتھل کی عمارت کے لیے مجوزہ جگہ کے خصوصی دورہ کے موقع پر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ڈی پی ایس نورپورتھل کی عمارت کی تعمیر سمیت اس ادارے کے دیگر مسائل کے حل کے لیے ترجیحی بنیادوں پر کئے جائیں گے۔ اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر چودھری محمد جعفر گجر نے ممبرقومی اسمبلی ملک محمداحسان اللہ خان ٹوانہ کو بریفنگ دیتے ہوۓ بتایا کہ سکول ھذا کی عمارت سمیت دیگر سہولیات کی فراہمی کے لیے تخمینہ لاگت تقریباً دوکروڑ روپے ہے۔ انہوں نے بتایاکہ سکول کے لیے اکیس کنال اراضی مختص کردی گئی ہے۔ انشاءاللہ ادارہ ہذا کو علاقہ تھل کا ایک مثالی ادارہ بنایا جاۓ گا۔ ملک محمداحسان اللہ خان ٹوانہ نے ڈی پی ایس نورپورتھل کی عمارت کی تعمیر سمیت دیگر جملہ مسائل سکول ھذا کے حل کی بھرپور یقینی دہانی کرائی۔ نورپورتھل کی معروف سماجی و سیاسی شخصیات کے علاوہ ایم این اے ملک محمداحسان اللہ خان ٹوانہ کے پبلک فورم انچارج ملک غضنفر وڈھل بھی اس موقع موجود تھے۔

خالص اشیا کی فروخت سے کاروبار میں برکت ہوتی ہے ، امیر حیدر سنگھا

Image may contain: 11 people, people smiling, people standing
خوشاب نیوز ڈاٹ کام)    سابق چیئرمین ضلع کونسل خوشاب ملک امیر حیدر سنگھا نے کالج روڈ جوہرآباد میں ''داتا چکن شاپ کا'افتتاح کیا اس موقع پر شہری اتحاد کے مرکزی راہنما حاجی فخر حسین اعوان' صدر مرکزی انجمن تاجران جوہرآباد عثمان جنجوعہ' جنرل سیکرٹری رانا سلیم الرحمن' ملک خوشنود علی' ملک قیصر مدھوال' فیاض زرگر سمیت معززین شہریوں کی کثیر تعداد بھی موجود تھی۔ اس موقع پر تقریب کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے سابق چیئرمین ضلع کونسل خوشاب ملک امیر حیدر سنگھا نے کہا کہ عوام کو خالص کھانے پینے کی اشیاء کی فروخت سے جہاں کاروبار میں اللہ تعالی کیجانب سے برکت ہوتی وہاں انسان رزق سے مطمئن ہونے کیساتھ ساتھ خوشحالی کی طرف سے تیزی سے گامزن ہوتا ہے۔ اس موقع پر داتا چکن شاپ کے مالک رانا محمد تنویر نے کہا کہ عوام کو معیاری کھانے کی اشیاء کی فراہمی ہمارا سلوگن ہے جس پر کسی قسم کا کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائیگا۔ انہوں نے کہا کہ افتتاح کے فوری بعد ہی عوام کی طرف سے ملنے والی پذیرائی ہمارے اچھے معیار کی علامت ہے۔

اندھے قتلوں کا سراغ مل گیا ، ملزمان گرفتار

Image may contain: 6 people, people sitting
خوشاب نیوز ڈاٹ کام)    پخوشاب پولیس نے قتل اور ڈکیتی کی دو اندھی وارداتوں کا سراغ لگا کر دونوں وارداتوں میں ملوث ملزمان کو قانون کی گرفت میں لے لیا۔ یہ انکشاف ڈی پی او خوشاب رانا شعیب محمود نے ایک پرہجوم پریس کانفرنس کے دوران کیا۔ اُنھوں نے بتایا کہ قتل کی پہلی واردات محلہ علی پورہ میں ہوئی تھی جہاں ایک شادی شدہ خاتون مسماة ماریہ کی نعش اُس کے گھر کے واش روم سے ملی تھی۔ پولیس نے نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کر رکھا تھا۔ جبکہ قتل اور ڈکیتی کی سنگین واردات راولپنڈی روڈ پر شوالہ کے قریب ہوئی تھی جس میں نامعلوم ڈاکو نے ٹرالر نہ روکنے پر ٹرالر کے ڈرائیور عبدالجبار ولد عبدالغفار چھینہ ساکن منکیرہ کو چھریوں کے پے در پے وار کر کے قتل کر دیا تھا۔ دونوں وارداتوں کے ملزمان کی گرفتاری پولیس کیلئے چیلنج بنی ہوئی تھی۔ ڈی پی او خوشاب نے ان دونوں وارداتوں کا سراغ لگانے کیلئے ڈی ایس پی صدر فرخ سہیل سندھو کی زیر نگرانی ایس ایچ او تھانہ خوشاب انسپکٹر راجہ ارشد عباس اور تفتیشی افسران سب انسپکٹر راجہ ظفر عباس اور سب انسپکٹر عبدالرحیم پر مشتمل ایک خصوصی ٹیم تشکیل دی جس نے شبانہ روز جدوجہد کے بعد ان دونوں سنگین وارداتوں کا سراغ لگا کر ملزمان کو گرفتار کر لیا۔ محلہ علی پورہ میں قتل ہونیوالی خاتون ماریہ کا قاتل اُس کا شوہر وقار احمد نکلا ملزم نے پولیس کے سامنے اپنے جرم کا اعتراف کرتے ہوئے بتایا کہ اُس نے ماریہ کو گھریلو ناچاقی کی بنا پر قتل کیا ہے۔ شوالہ کے قریب ڈکیتی کی مبینہ واردات کے دوران ڈرائیور عبدالجبار کا قاتل اُس کے ٹرک کا کنڈیکٹر عزیز اﷲ ولد محمد اسلم بلوچ ساکن منکیرہ نکلا۔ عزیز اﷲ نے اپنے جرم کا اعتراف کرتے ہوئے پولیس کو بتایا کہ اُسے شبہ تھا کہ عزیز اﷲ نے اس کی اہلیہ کیساتھ ناجائز تعلقات استوار کررکھے ہیں۔ اس بنا پر اُسے چھریاں مار کر قتل کیا اور قتل کی سنگین واردات کو ڈکیتی کا رنگ دینے کی کوشش کی۔
-

خوشاب آمد پر مریم نواز کا فقید المثال استقبال کیا جایگا، ملک منیر طاہر

Image may contain: 1 person, smiling, suit
خوشاب نیوز ڈاٹ کام)    پاکستان مسلم لیگ ن جوہرآباد سٹی کے صدرملک منیر طاہر اعوان ایڈوکیٹ نے کہا ہے کہ ضلع خوشاب پاکستان مسلم لیگ ن کا مضبوط قلعہ ہے اور انشاء اﷲ چار اگست کو محترمہ مریم نواز شریف کی خوشاب آمد پر اُن کا فقید المثال استقبال کیا جائے گا اور ضلع خوشاب کے غیور عوام ثابت کر دیں گے کہ حکومتی پروپیگنڈہ اور انتقامی پالیسیوں کے باوجود ضلع خوشاب کے عوام مسلم لیگ ن کیساتھ ہیں اور اس کے قائدین پر بھرپور اعتماد کرتے ہیں۔ محترمہ مریم نواز شریف کی آمد کے سلسلہ میں مسلم لیگ ن کےکارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ محترمہ مریم نواز عوام کا درد محسوس کرتے ہوئے حکومت کی عوام دشمن پالیسیوں کا راستہ روکنے کیلئے میدانِ عمل میں ہے اور ملک کے گوش و کنار میں اُن کا فقید المثال استقبال کیا جا رہاہے۔ جو پاکستان مسلم لیگ ن کی عوامی مقبولیت کی دلیل ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام دشمن پالیسیاں کے ذریعے غریب عوام کو مہنگائی کے سونامی میں ڈبونے والوں کو عوام معاف نہیں کرینگے اور وہ وقت دور نہیں جب حکومتی پالیسیوں کے ڈسے ہوئے عوام حکمرانوں سے اپنی محرومیوں کا انتقام لیں گے۔انہوں نے بتایا کہ آج شام کو مسلم لیگ ن کے زیر اہتمام محترمہ مریم نواز کی آمد کے حوالے سے جوہرآباد میں ایک عظیم الشان ریلی بھی نکالی جائے گی۔ -

اانکم ٹیکس ریٹرن کی تربیتی ورکشاپ

Image result for FBR
خوشاب نیوز ڈاٹ کام)    گورنمنٹ ہایئر سیکنڈری سکول خوشاب میں ایف بی آرسے متعلقہ انکم ٹیکس ریٹرن کے حوالے سے دو روزہ تربیتی ورکشاپ منعقد ہوئی -تربیتی ورکشاپ کا اہتمام ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر سیکنڈری ریاض احمد سوہی نے کیا -جو اس ورکشاپ کے مہمان خصوصی بھی تھے-تربیتی ورکشاپ میں ضلع کے تمام میل اور فی میل سیکنڈری اور ہائر سکینڈری سکولوں کے سربراہان اور ایف بی آر کے ان لینڈ ریونیو آفیسرخالد معاذ نے شرکت کی -ان لینڈ ریونیو آفسیر خالد معاذنے ورکشاپ کے شرکاء کو بذریعہ ملٹی میڈیا انکم ٹیکس ریٹرن کے طریقہ کار سے مکمل آگاہی دی -خالد معاذ نے شرکاء ورکشاپ کی تمام سوالات کے جوابات دیئے،طریقہ کار کی وضاحت کی اور انہیں مطمئن کیا -ریاض احمد سوہی نے خطاب کرتے ہوئے کہ انکم ٹیکس فائل ریٹرن کرنا ہماری قومی ذمہ داری ہے اسلیے تمام آفیسرز،اساتذہ جو اس انکم ٹیکس کے دائرہ کار میں آتے ہیں وہ اس ذمہ داری کو پورا کریں -بعد ازاں ریاض احمد سوہی نے ورکشاپ میں تمام ہیڈ ماسٹر صاحبان ہے کہا کہ ماہ اگست ہمارے ملک کی تاریخ میں خا ص اہمیت کا حامل ہے -اسلیے طلباء طالبات کو 14 اگست کے حوالے سے اپنے بزرگوں کی لازوال قربانیوں اور 14 اگست یوم آزادی سے بھر پور روشناس کرائیں -انہوں نے درختوں کی اہمیت پر بھی تفصیل سے روشنی ڈالی اور مون سون شجر کاری میں بڑھ چٹر ھ کر حصہ لینے کی تلقین کی -۔ -

جمعہ، 2 اگست، 2019

ٹی ایچ کیو نور پور تھل میں سہولتیں پوری کی جائیں گی

Image result for ‫ملک احسان اللہ ٹوانہ‬‎

خوشاب نیوز ڈاٹ کام)    پاکستان مسلم لیگ ن کی مرکزی رہنما  رکن قومی اسمبلی و چیئر مین قائمہ کمیٹی برائے امور خارجہ ملک احسان اللہ ٹوانہ نے کہا ہے کہ تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال نور پور تھل  میں فراہمی  سہولیات کےلیے ایم ایس سول ہسپتال سے تجاویز طلب کی گئی ہیں جن پر عمل در آمد کرواتے ہوئے ہسپتال میں مریضوں کی سہولیات کو مزید بہتر کرنے کی کوشش کریں گے دورہ نور پور تھل کے موقع پر میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تحصیل نور پور تھل کے ملحقہ 22دیہات کی عوام کو مفت طبی سہولیات کی فراہمی کیلئے سول ہسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر امیر عمر سے تجاویز طلب کی گئی ہیں جن پر فی الفور عمل در آمد کر کے ہسپتال میں سہولیات کو مزید بہتر بنائیں گے انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت کا مشن ہی عوام کو ان ی دہلیز پر سہولیات کی فراہمی ہے جسے ہر صورت پورا کیا جائے گا ۔ -

4اگست کو مریم نواز کا جلسہ ہر صورت ہوگا

Image result for ‫وارث کلو‬‎

خوشاب نیوز ڈاٹ کام)    رکن پنجاب اسمبلی و رہنما مسلم لیگ ن ملک وارث کلو نے کہا ہے کہ مریم نواز کے جلسہ خوشاب کو بھرپور طریقے سے کامیاب بنانے کیلئے علاقہ تھل کے تمام ن لیگی کارکن جلسہ میں شرکت کریں گے نور پور تھل میں میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نائب صدر مسلم لیگ ن محترمہ مریم نواز اتوار 4اگست کو خوشاب میں ایک جلسہ عام سے خطاب کریں گی جس کیلئے تمام تر تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں حلقہ پی پی 84کے تمام ن لیگی کارکنان کل دوپہر 2بجے ایم پی اے سیکرٹریٹ نور پور تھل پہنچیں گے جہاں سے قافلے کی شکل میں خوشاب روانگی ہو گی انہوں نے کہا کہ موجودہ حکمران میاں نواز شریف اور شہباز شریف پرچاہے جتنے مرضی کیس بنا لیں لیکن کرپشن ثابت نہیں کر سکتے یہ عوام کے دلوں میں بستے ہیں جنہیں کوئی نہیں نکال سکتاگئیں ۔ -

مریم نواز کو خوشاب میں جلسہ کی اجازت نہ ملی


Image result for maryam nawaz
خوشاب نیوز ڈاٹ کام)    پاکستان مسلم لیگ ن کی مرکزی رہنما  محترمہ مریم نواز شریف کے 4اگست کو خوشاب میں جلسہ عام کیلئے ضلعی انتظامیہ خوشاب ریسکیو آفس خوشاب سے ملحقہ گروانڈ میں جلسہ کی اجازت دینے کیلئے رضا مندہو گئی ہے جبکہ نیو لاری خوشاب اور پرانا لاری اڈا میں جلسہ کرنے کی جمع کروائی گئیں درخواستیں ضلعی انتظامیہ نے مسترد کرتے ہوئے نئی جگہ کیلئے درخواست جمع کروانے کے لئے ہدایت کردی ۔ -

یپلز پارٹی کے تمام سینیٹرز نے استعفے دیدیے



خوشاب نیوز ڈاٹ کام)   پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے تمام سینیٹرز نے چیئرمین سینیٹ کیخلاف تحریک عدم اعتماد کی ناکامی کے بعد اپنے استعفے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو جمع کرا دیے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کیخلاف تحریک عدم اعتماد کی ناکامی کے بعد ملکی سیاسی صورتحال میں بڑی تبدیلی رونما ہوئی ہے۔ پیپلز پارٹی کے تمام سینیٹرز نے اپنے استعفے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو جمع کرا دیے ہیں۔ یہ بھی پڑھیں: متحدہ اپوزیشن کا ووٹ دینے والے 14 سینیٹرز کو بے نقاب کرنیکا فیصلہ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ تمام 21 سینیٹرز نے استعفے میرے حوالے کر دیئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی نظریاتی پارٹی ہے، ہماری جدوجہد جاری رہے گی۔ ہم ہار کر بھی جیت گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق سینیٹرز کا موقف ہے کہ یہ عہدہ پارٹی کی امانت ہے۔ ادھر پیپلز پارٹی کی پارلیمانی لیڈر شیری رحمان نے بھی استعفوں کی تصدیق کر دی ہے۔ بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ سارے سینیٹرز نے استعفے اخلاقی طور پر دئیے۔ خفیہ بیلٹ کا فائدہ اٹھا کر ووٹ تبدیل کرائے، پیپلز پارٹی ضرور اس معاملے کی چھان بین کرے گی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ افسوس کی بات ہے کہ جنرل الیکشن کی طرح اس بار بھی ووٹ مسترد کرکے اپوزیشن کو ہرایا گیا۔ یہ عمل وفاق، سینیٹ اور جمہوریت کے لئے خطرناک ہے۔ -

ضلع خوشاب میں پلانٹ فار ڈے منایا گیا


خوشاب نیوز ڈاٹ کام)   پرائم منسٹر آف پاکستان عمران خان کے ویژن کے مطابق ضلع خوشاب میں ضلعی سطح پر   ”پلانٹ فار پاکستان ڈے“کے حوالے سے بڑی تقریب کاانعقاد ایرڈ زرعی یونیورسٹی سب کیمپس خوشاب میں ہوا۔تقریب کی مہمان خصوصی ڈپٹی کمشنر خوشاب مسرت جبین تھیں۔تقریب میں ادارہ کے ڈائریکٹر،ایڈمنسٹریٹوڈاکٹر محمد کامران،ڈویزنل فارسٹ آفیسر عظیم ظفر،ادارہ کے دیگر افسران و سٹاف اور طالبات موجود 
تھیں۔ڈپٹی کمشنر مسرت جبین نے یونیورسٹی کے احاطہ میں پودا لگا کر مون سون شجر کاری کا افتتاح کیا۔تقریب میں ڈائریکٹر ادارہ،ڈی ایف او اور یونیورسٹی کی طالبات نے بھی پودے لگائے اس موقع پر ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ طالبات کوروائتی تعلیم دینے کے ساتھ ساتھ درخت کاری کی جانب راغب کیا جائے اور درختوں کی افادیت پر تفصیل سے آگاہی دی جائے۔ڈائر یکٹر یونیورسٹی ڈاکٹر کامران احمد نے ادارہ ھذا میں سابقہ دور سے اب تک شجر کاری سرگرمیوں پر ڈپٹی کمشنر کو تفصیل بتائی۔انہوں نے زرعی یونیورسٹی کیمپس خوشاب میں زیر تعلیم طلباء و طالبات کو درس وتدریس کے حوالے سے بریفننگ دی اور کیمپس کا معائنہ بھی کرایا۔ڈپٹی کمشنر نے طالبات کی شجر کاری میں دلچسپی اور ان کی سرگرمیوں کو سراہا۔اس موقع پر 
ڈائریکٹر ادارہ نے بتایا کہ پلانٹ فار پاکستان ڈے کے حوالے سے کیمپس میں 555پودے لگائے جائیں گے بعد ازاں گورنمنٹ گرلز ہائی سکول 50ایم بی میں بھی پلانٹ فار پاکستان ڈے کے حوالے سے ایک تقریب کا انعقاد ہوا اس تقریب  کے مہمان خصوصی اسسٹنٹ کمشنر خوشاب افتخار احمد بلوچ تھے۔تقریب میں سی ای او ایجوکیشن  میاں محمد اسماعیل،ہیڈ مسٹریس سکول،اساتذہ اور سابق چئرمین یو سی موجود تھے۔اسسٹنٹ کمشنر نے سکول کے احاطہ میں پودا لگا کر مون سو ن شجرکاری کا افتتاح کیا۔سی ای او ایجوکیشن نے بتایا کہ سکول ہذا میں آج کے دن کے حوالے سے 250پودے لگائے جائیں گے۔ نیز پلانٹ فارپاکستان ڈے کے حوالے سے گورنمنٹ گرلز ماڈل ہائی سکول جوہرآباد میں ایک تقریب کا انعقاد ہو ا-تقریب کی مہمان خصوصی ڈپٹی کمشنر خوشاب مسرت جبیں تھیں -تقریب میں ڈویژنل فاریسٹ آفیسر عظیم ظفر،سی ای او ایجوکیشن اتھارٹی میا ں محمد اسماعیل ڈی او سیکنڈری ریاض احمد سوھی،سکول ہیڈ مسٹریس،اساتذہ اور طالبات موجو دتھیں -ڈپٹی کمشنر مسرت جبیں نے پلانٹ فارپاکستان ڈے،کے حوالے سے سکول میں پودا لگا کر شجر کاری مہم کا افتتاح کیا -اس موقع پر ڈپٹی کمشنر مسرت جبیں نے کہا کہ وزیر اعظم پاکستان عمران خان کے ویژن کے مطابق صوبہ بھر میں مون سون شجر کاری کا آغاز ہو چکا ہے -انہوں نے کہا کہ شجر کاری کے ذریعے لگائے جانے والے پودوں کو درخت بننے میں ایک عر صہ لگتا ہے -جہا ں ہر سال نئے پودے لگانا ضروری ہیں وہاں درختوں کی حفاظت بھی اتنی ہی اہم ہے -لہذا ہر ادارہ اور ادارے کا ہر فرد درختوں کی حفاظت کی ذمہ داری پوری کرے تاکہ وطن عزیز درختوں کی دولت سے مالا مال ہو-تقریب میں سی ای او ایجوکیشن میا ں محمد اسماعیل،ڈی او ایجوکیشن سیکنڈری ریاض احمد سوھی،سکول ہیڈ مسٹریس اور طالبات نے بھی پودے لگائے -ڈپٹی کمشنر نے طالبات کو پودے تقسیم کیئے او ر اس مہم کی کامیابی کے لیئے تقریب کے شرکاء نے خصوصی دعا بھی کی -

سیشن جج خوشاب ، مجسٹریٹ کا ڈسٹرکٹ جیل شاہپور کا دورہ


خوشاب نیوز ڈاٹ کام)سیشن جج خوشاب سجاد حسین سندھڑ نے مجسٹریٹ دفعہ 30خوشاب حسنین احمد انور کے ہمراہ ڈسٹرکٹ جیل شاہپور کا دورہ کیا۔ سپرنٹنڈنٹ جیل شیخ افضل جاوید، ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ سرفراز ہارون خان اور جیل ہسپتال کے ڈاکٹر بلال حیدر نے انکا استقبال کیا ،جج صاحبان نے خواتین وارڈ اور نوعمر وارڈ کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے مزید سہولیات فراہم کرنے کا حکم دیا، بعد ازاں جیل کچن، ہسپتال اور میڈیکل سٹور کا معائنہ کیا اور اسیران کیلئے بہترین خوراک اور مناسب طبی سہولیات کی فراہمی پر اطمینان کا اظہار کیا،معمولی مقدمات میں قید دو افراد عثمان اور میاں محمد کو ذاتی مچلکوں پر رہائی کا حکم دیا۔ں

ہفتہ، 15 جولائی، 2017

اب صحت کی سہولیات پسماندہ علاقوں تک میسر ہیں، آصف بھا

خوشاب نیوز ڈاٹ کام)محکمہ صحت ضلع خوشاب میں بہترین کارکردگی دکھانے والے ڈاکٹروں‘ پیرا میڈیکل ‘ نرسنگ و دیگر سٹاف کی حوصلہ افزائی کیلئے ڈی ایچ کیو ہسپتال جوہرآباد میں ہیلتھ خدمت ایوارڈ کی تقسیم کے حوالے سے پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ تقریب میں صوبائی وزیر ملک محمد آصف بھا‘ مسلم لیگ ن ضلع خوشاب کے صدر سینیٹر ڈاکٹر غوث محمد نیازی اور ضلع کونسل کی چیئرپرسن  محترمہ سمیرا ملک نے بطور مہمانانِ خصوصی شرکت کی۔ تقریب میں چیف ایگزیکٹو آفیسر ہیلتھ اتھارٹی‘ ڈاکٹر نذر حیات مجوکہ‘ ہسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر قاضی آصف محمود سمیت محکمہ صحت کے افسران و ملازمین کے علاوہ علاقہ مکینوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔ اس موقع پر ڈی ایچ کیو ہسپتال جوہرآباد کے شعبہ امراض چشم کے انچارج ڈاکٹر محمود احمد زبیری‘ ٹی این ٹی سپیشلسٹ ڈاکٹر راشد بلال‘ شعبہ کارڈیالوجی کے انچارج ڈاکٹر صابر ملک‘ آرتھو پیڈک سرجن ڈاکٹر عمران عزیز‘ ڈاکٹر مختار حسین‘ او ٹی اے ملک سید رسول‘ لیبارٹری ٹیکنیشن محمد قیوم‘ ایکسرے ٹیکنیشن راجہ ربنواز‘ ڈسپنسر سید ظہیر شاہ‘ رانا محی الدین‘ ہیڈ نرس نورین ‘ سٹور کلرک شکیل احمد‘ کلاس فور ملازمین رجب علی‘ امین مسیح اور دیگر سٹاف میں ایوارڈز تقسیم کئے گئے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر ملک محمد آصف بھا نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کی جانب سے ہیلتھ سیکٹر میں کی جانیوالی انقلابی تبدیلیاں لائق تحسین ہیں۔ اُن کے جراتمندانہ اقدامات کے نتیجہ میں دور افتادہ اور پسماندہ علاقوں میں بھی عوام کو صحت کی بنیادی سہولیات اُن کی دہلیز پر میسر ہوئیں۔ سینیٹر ڈاکٹر غوث محمد نیازی نے اپنے خطاب میں کہا کہ مسلم لیگ ن کی عوام دوست پالیسیوں کے ثمرات بتدریج عوام تک منتقل ہو رہے ہیں۔ مسلم لیگ ن کی حکومت کی جانب سے بہترین کارکردگی کے حامل ملازمین و افسران کی حوصلہ افزائی کیلئے ایوارڈز کی تقسیم انتہائی مستحسن اقدام ہے۔ ضلع کونسل خوشاب کی چیئرپرسن محترمہ سمیرا ملک نے کہا کہ مسلم لیگ ن کی حکومت ایجوکیشن اور ہیلتھ سیکٹر میں مثبت انقلابی تبدیلیاں رونما کرنے کیساتھ ساتھ دور افتادہ اور پسماندہ علاقوں کی ڈویلپمنٹ پر بھی خصوصی توجہ دے رہی ہے۔ انشاء اﷲ حکومتی اقدامات کے نتیجہ میں وطن عزیز سے غربت اور پسماندگی مکمل طور پر ختم ہو جائے گی۔ بعد ازاں سی ای او ہیلتھ ڈاکٹر نذر حیات مجوکہ اور ایم ایس ڈاکٹر قاضی آصف محمود نے معزز مہمانانِ گرامی کو یادگار شیلڈ پیش کیں۔ 

جمعہ، 26 اگست، 2016

طوائف کی کہانی۔ امام مسجد کی زبانی




نوراں کنجری ۔۔۔۔شہریار خاور
دسمبر کے اوائل کی بات ہے جب محکمہ اوقاف نے زبردستی میری تعیناتی شیخو پوریکے امیر محلے کی جامعہ مسجد سے ہیرا منڈی لاہور کی ایک پرانی مسجد میں کر دی. وجہ یہ تھی کے میں نے قریبی علاقے کے ایک کونسلر کی مسجد کے لاوڈ سپیکر پے تعریف کرنے سے انکار کر دیا تھا. شومئی قسمت کے وہ کونسلر محکمہ اوقاف کے ایک بڑے افسرکا بھتیجا تھا. نتیجتاً میں لاہور شہر کے بدنام ترین علاقے میں تعینات ہو چکا تھا. بیشک کہنے کو میں مسجد کا امام جا رہا تھا مگر علاقے کا بدنام ہونا اپنی جگہ. جو سنتا تھا ہنستا تھا یا پھر اظھار افسوس کرتا تھا

محکمے کے ایک کلرک نے تو حد ہی کر دی تنخواہ کا ایک معاملہ حل کرانے اس کے پاس گیا تو میری پوسٹنگ کا سن کے ایک آنکھ دبا کر بولا
قبلہ مولوی صاحب، آپ کی تو گویا پانچوں انگلیاں گھی میں اور سر کڑاہی میں. میں تو گویا زمین میں چھ فٹ نیچے گڑ گیا 
پھر اللہ بھلا کرے میری بیوی کا جس نے مجھے تسلی دی اور سمجھایا کے امامت ہی توہے، کسی بھی مسجد میں سہی. اور میرا کیا ہے؟ میں تو ویسے بھی گھر سے نکلنا پسند نہیں کرتی. پردے کا کوئی مسلہ نہیں ہوگا. اور پھر ہمارے کونسے کوئی بچے ہیں کے ان کے بگڑنے کا ڈر ہو

بیوی کی بات سن کر تھوڑا دل کو اطمینان ھوا اور ہم نے سامان باندھنا شروع کیا. بچوں کا ذکر چھڑ ہی گیا تو یہ بتاتا چلوں کے شادی کے بائیس سال گزرنے کے باوجود اللہ نے ہمیں اولاد جیسی نعمت سے محروم ہی رکھنا مناسب سمجھا تھا. خیر اب تو شکوہ شکایت بھی چھوڑ چکے تھے دونوں میاں بیوی. جب کسی کا بچہ دیکھ کر دل دکھتا تھا تو میں یاد الہی میں دل لگا لیتا اور وہ بھلی مانس کسی کونے کھدرے میں منہ دے کر کچھ آنسو بہا لیتی

سامان باندھ کر ہم دونوں میاں بیوی نے اللہ کا نام لیا اور لاہورجانے کے لئے ایک پرائیویٹ بس میں سوار ہوگئے. بادامی باغ اڈے پے اترے اور ہیرا منڈی جانے کے لئے سواری کی تلاش شروع کی. ایک تانگے والے نے مجھے پتا بتانے پر اوپر سے نیچے تلک دیکھا اور پھر برقع میں ملبوس عورت ساتھ دیکھ کر چالیس روپے کے عیوض لے جانے کی حامی بھری. تانگہ چلا تو کوچبان نے میری ناقص معلومات میں اضافہ یہ کیہ کر کیا کے

میاں جی، جہاں آپ کو جانا ہے، اسے ہیرا منڈی نہیں، ٹبی گلی کہتے ہیں پندرہ بیس منٹ میں ہم پوہنچ گئے. دوپہر کا وقت تھا. شاید بازار کھلنے کا وقت نہیں تھا. دیکھنے میں تو عام سا محلہ تھا. وہ ہی ٹوٹی پھوٹی گلیاں، میلے کرتوں کیغلیظ دامن سے ناک پونچھتے ننگ دھڑنگ بچے، نالیوں میں کالا پانی اور کوڑے کے ڈھیروں پے مڈلاتی بیحساب مکھیاں. سبزیوں پھلوں کے ٹھیلے والے اور ان سے بحث کرتی کھڑکیوں سے آدھی باہرلٹکتی عورتیں فرق تھا تو صرف اتنا کے پان سگریٹ اور پھول والوں کی دکانیں کچھ زیادہ تھیں. دوکانیں تو بند تھیں مگر ان کے نئے پرانے بورڈ اصل کاروبار کی خبر دے رہے تھے

مسجد کے سامنے تانگہ کیا رکا، مانو محلے والوں کی عید ہوگیی. پتہ نہیں کن کن کونے کھدروں سے بچے اور عورتیں نکل کر جمع ہونے لگیں. ملی جلی آوازوں نے آسمان سر پے اٹھا لیا.

ابے نیا مولوی ہے

بیوی بھی ساتھ ہے. پچھلے والے سے تو بہتر ہی ہوگا

کیا پتہ لگتا ہے بہن، مرد کا کیا اعتبار؟

ہاں ہاں سہی کہتی ہے تو. داڑھی والا مرد تو اور بھی خطرناک

عجیب طوفان بدتمیز تھا. مکالموں اور فقروں سے یہ معلوم پڑتا تھا کے جیسے طوائفوں کے محلے میں مولوی نہیں، شرفاء کے محلے میں کوئی طوائف وارد ہوئی ہو. اس سے پہلے کے میرے ضبط کا پیمانہ لبریز ہوتا، خدا خوش رکھے غلام شببر کو جو مولوی صاحب مولوی صاحب کرتا دوڑا آیا اور ہجوم کو وہاں سے بھگا دیا. پتہ چلا کے مسجد کا خادم ہے اور عرصہ پچیس سال سے اپنے فرائض منصبی نہایت محنت اور دیانت داری سے ادا کر رہا تھا. بھائی طبیعت خوش ہوگیی اس سے مل کے. دبلا پتلا پکّی عمر کا مرد. لمبی سفید داڑھی. صاف ستھرا سفید پاجامہ کرتا، کندھے پے چار خانے والا سرخ و سفید انگوچھا. پیشانی پے محراب کا کالا نشان، سر پے سفید ٹوپی اور نیچی نگاہیں. سادہ اور نیک آدمی اور منہ پے شکایت کا ایک لفظ نہیں. بوڑھا آدمی تھا مگر کمال کا حوصلہ و ہمّت رکھتا تھا 

سامان سنبھالتے اور گھر کو ٹھیک کرتے ہفتہ دس دن لگ گئے.گھر کیا تھا. دو کمروں کا کوارٹر تھا مسجد سے متصل. ایک چھوٹا سا باورچی خانہ، ایک اس سے بھی چھوٹا غسل خانہ اور بیت الخلا اور ایک ننھا منا سا صحن. بہرحال ہم میاں بیوی کو بڑا گھر کس لئے چاہیے تھا. بہت تھا ہمارے لئے. بس ارد گرد کی عمارتیں اونچی ہونے کی وجہ سے تاریکی بہت تھی. دن بارہ بجے بھی شام کا سا دھندلکا چھایا رہتا تھا. گھر ٹھیک کرنے میں غلام شببر نے بہت ہاتھ بٹایا. صفائی کرنے سے دیواریں چونا کرنے تک. تھوڑا کریدنے پے پتا چلا کے یہاں آنے والے ہر امام مسجد کے ساتھ غلام شبّیرگھر کا کام بھی کرتا تھا. بس تنخواہ کے نام پے غریب دو وقت کا کھانا مانگتا تھا اور رات کو مسجد ہی میں سوتا تھا. یوں اس کو رہنے کی جگہ مل جاتی تھی اور مسجد کی حفاظت بھی ہوجاتی تھی
ایک بات جب سے میں آیا تھا، دماغ میں کھٹک رہی تھی. سو ایک دن غلام شببر سے پوچھ ہی لیا

میاں یہ بتاؤ کے پچھلے امام مسجد کے ساتھ کیا ماجرا گزرا؟

وہ تھوڑا ہچکچایا اور پھر ایک طرف لے گیا کے بیگم کے کان میں آواز نہ پڑے

میاں جی اب کیا بتاؤں آپ کو؟ جوان آدمی تھے اور غیر شادی شدہ بھی. محلے میں بھلا حسن کی کیا کمی ہے. بس دل آ گیا ایک لڑکی پے. لڑکی کے دلال بھلا کہاں جانے دیتے تھے سونے کی چڑیا کو. پہلے تو انہوں نے مولانا کو سمجھنے بجھانے کی کوشش کی. پھر ڈرایا دھمکایا. لیکن مولانا نہیں مانے. ایک رات لڑکی کو بھگا لے جانے کی کوشش کی. بادامی باغ اڈے پر ہی پکڑے گئے. ظالموں نے اتنا مارا پیٹا کے مولانا جان سے گئے. غلام شبّیر نے نہایت افسوس کے ساتھ ساری کہانی سنائی

پولیس وغیرہ؟ قاتل پکڑے نہیں گئے؟ میں نے گھبرا کر پوچھا

غلام شبّیر ہنسنے لگا. کمال کرتے ہیں آپ بھی میاں جی. پولیس بھلا ان لوگوں کے چکروں میں کہاں پڑتی ہے. بس اپنا بھتہ وصول کیا اور غائب. اور ویسے بھی کوتوال صاحب خود اس لڑکی کے عاشقوں میں شامل تھے

لاحول ولا قوّت الا باللہ..کہاں اس جہنم میں پھنس گئے. میں یہ سب سن کر سخت پریشان ہوا

آپ کیوں فکر کرتے ہیں میاں جی؟ بس چپ کر کے نماز پڑھیں اور پڑھاہیں. دن کے وقت کچھ بچے آ جایا کریں گے. ان کو قران پڑھا دیں. باقی بس اپنے کام سے کام رکھیں گے تو کوئی تنگ نہیں کرتا یہاں. بلکہ مسجد کا امام اچھا ہو تو گناہوں کی اس بستی میں لوگ صرف عزت کرتے ہیں. غلام شبّیر نے میری معلومات میں اضافہ کرتے ہوے بتایا تو میری جان میں جان آی

انہی شروع کے ایام میں ایک واقعیہ ہوا. پہلے دن ہی دوپہر کے کھانے کا وقت ہوا تو دروازے پے کسی نے دستک دی. غلام شبّیر نے جا کے دروازہ کھولا اور پھر ایک کھانے کی ڈھکی طشتری لے کے اندر آ گیا. میری سوالیہ نگاہوں کے جواب میں کہنے لگا

نوراں نے کھانا بھجوایا ہے. پڑوس میں رہتی ہے

میں کچھ نا بولا اور نا ہی مجھے کوئی شک گزرا. سوچا ہوگی کوئی اللہ کی بندی. اور پھر امام مسجد کے گھر کا چولھا تو ویسے بھی کم ہی جلتا ہے. بہرحال جب اگلے دو دن بھی یہ ہی معمول رہا تومیں نے سوچا کے یہ کون ہے جو بغیر کوئی احسان جتاے احسان کیے جا رہی ہے.عشاء کی نماز کے بعد مسجد میں ہی تھا جب غلام شبّیر کو آواز دے کے بلایا اور پوچھا

میاں غلام شبّیر یہ نوراں کہاں رہتی ہے؟ میں چاہتا ہوں میری گھر والی جا کر اس کا شکریہ ادا کرآے

غلام شبّیر کے تو اوسان خطا ہو گئے یہ سن کر. میاں جی ، بی بی نہیں جا سکتی جی وہاں

میں نے حیرانی سے مزید استفسار کیا تو گویا غلام شبّیر نے پہاڑ ہی توڑ دیا میرے سر پے

میاں جی ، اس کا پورا نام تو پتا نہیں کیا ہے مگر سب اس کو نوراں کنجری کے نام سے جانتے ہیں. پیشہ کرتی ہے جی

پیشہ کرتی ہے؟ یعنی طوائف ہے؟ اور تم ہمیں اس کے ہاتھ کا کھلاتے رہے ہو؟ استغفراللہ! استغفراللہ

غلام شبّیر کچھ شرمسار ہوا میرا غصّہ دیکھ کر. تھوڑی دیر بعد ہمّت کر کے بولا:

میاں جی یہاں تو سب ایسے ہی لوگ رہتے ہیں. ان کے ہاتھ کا نہیں کھاییں گے تو مستقل چولھا جلانا پڑے گا جو آپ کی تنخواہ میں ممکن نہیں

یہ سن کر میرا غصّہ اور تیز ہوگیا. ہم شریف لوگ ہیں غلام شبّیر، بھوکے مر جایءں گے مگر طوائف کے گھر کا نہیں کھاییں گے

میرے تیور دیکھ کر غلام شبّیر کچھ نہ بولا مگر اس دن کے بعد سینوراں کنجری کے گھر سے کھانا کبھی نا آیا

جس مسجد کا میں امام تھا، عجیب بات یہ تھی کے اس کا کوئی نام نہیں تھا. بس ٹبی مسجد کے نام سے مشہور تھی. ایک دن میں نے غلام شبّیر سے پوچھا کے میاں نام کیا ہے اس مسجد کا؟ وہ ہنس کر بولا،

میاں جی اللہ کے گھر کا کیا نام رکھنا؟

پھر بھی؟ کوئی تو نام ہوگا. سب مسجدوں کا ہوتا ہے. میں کچھ کھسیانا ہو کے بولا
بس میاں جی بہت نام رکھے. جس فرقے کا مولوی آتاہے، پچھلا نام تبدیل کر کے نیا رکھ دیتا ہے.آپ ہی کوئی اچھا سا رکھ دیں. وہ سر کھجاتا ہوا بولا.

میں سوچ میں پڑ گیا. گناہوں کی اس بستی میں اس واحد مسجد کا کیا نام رکھا جائے؟ کیا نام رکھا جائے مسجد کا؟ ہاں موتی مسجد ٹھیک رہے گا. گناہوں کے کیچڑ میں چمکتا پاک صاف موتی. دل ہی دل میں میں نے مسجد کے نام کا فیصلہ کیا اور اپنی پسند کو داد دیتا اندر کی جانب بڑھ گیا جہاں بیوی کھانا لگاے میری منتظر تھی 

اب بات ہوجاے قرآن پڑھنے والے بچوں کی. تعداد میں گیارہ تھے اور سب کے سب لڑکے. ملی جلی عمروں کے پانچ سے گیارہ بارہ سال کی عمر کے. تھوڑے شرارتی ضرور تھے مگر اچھے بچے تھے.نہا دھو کے اور صاف ستھرے کپڑے پہن کے آتے تھے. دو گھنٹے سپارہ پڑھتے تھے اور پھر باہر گلی میں کھیلنے نکل جاتے. کون تھے کس کی اولاد تھے؟ نہ میں نے کبھی پوچھا نا کسی نے بتایا. لیکن پھر ایک دن غضب ہوگیا. قرآن پڑھنے والے بچوں میں ایک بچہ نبیل نام کا تھا. یوں تو اس میں کوئی خاص بات نا تھی. لیکن بس تھوڑا زیادہ شرارتی تھا. تلاوت میں دل نہیں لگتا تھا. بس آگے پیچھے ہلتا رہتا اور کھیلنے کے انتظار میں لگا رہتا. میں بھی درگزر سے کام لیتا کے چلو بچہ ہے.لیکن ایک دن ضبط کا دامن میرے ہاتھ سے چھوٹ گیا. اس دن صبح ہی سے میرے سر میں ایک عجیب درد تھا. غلام شبّیر سے مالش کرائی، پیناڈول کی دو گولیاں بھی کھایءں مگر درد زور آور بیل کی مانند سر میں چنگھاڑتا رہا. درد کے باوجود اور غلام شبّیر کے بہت منع کرنے پر بھی میں نے بچوں کا ناغہ نہیں کیا. نبیل بھی اس دن معمول سے کچھ زیادہ ہی شرارتیں کر رہا تھا. کبھی ایک کو چھیڑ کبھی دوسرے کو. جب اس کی حرکتیں حد سے بڑھ گیءں تو یکایک میرے دماغ پر غصّے کا بھوت سوار ہوگیا اور میں نے پاس رکھی لکڑی کی رحل اٹھا کر نبیل کے دے ماری. میں نے نشانہ تو کمر کا لیا تھا مگر خدا کا کرنا ایسا ہوا کے رحل بچے کی پیشانی پر جا لگی

خون بہتا دیکھ کر مجھے میرے سر کا درد بھول گیا اور میں نے گھبرا کر غلام شببر کو آواز دی. وہ غریب بھاگتا ہوا آیا اور بچے کو اٹھا کے پاس والے ڈاکٹر کے کلینک پر لے گیا. خدا کا شکر ہوا کے چوٹ گہری نہیں لگی تھی. مرہم پٹی سے کام چل گیا اور ٹانکے نا لگے. خیر باقی بچوں کو فارغ کر کے مسجد کے دروازے پے پوہنچا ہی تھا کے چادر میں لپٹی ایک عورت نے مجھے آواز دے کر روک لیا. میں نے دیکھا کے وہ عورت دہلیزپئے کھڑی مسجد کے دروازے سے لپٹی رو رہی تھی 

چالیس پینتالیس کا سن ہوگا. معمولی شکل و صورت. سانولا رنگ اور چہرے پے پرانی چیچک کے گہرے داغ. آنسوؤں میں ڈوبی آنکھیں اور گالوں پر بہتا کالا سرما. زیور کے نام پے کانوں میں لٹکتی سونے کی ہلکی سی بالیاں اور ناک میں چمکتا سستا سرخ نگ کا لونگ. چادر بھی سستی مگر صاف ستھری اور پاؤں میں ہوائی چپپل 

.کیا بات ہے بی بی؟ کون ہو تم؟ میں نے حیرانگی سے اس سے پوچھا

.میں نوراں ہوں مولوی صاحب. اس نے چادر کے پلو سے ناک پونچھتے ہوئے کہا 

نوراں؟ نوراں کنجری؟ میرے تو گویا پاؤں تلے زمین ہی نکل گیء. میں نے ادھر ادھر غلام شبّیر کی تلاش میں نظریں دوڑائیں مگر وہ تو نبیل کی مرہم پٹی کرا کے اور اس کو اس کے گھر چھوڑنے کے بہانے نجانے کہاں غایب تھا

جی. نوراں کنجری! اس نے نظریں جھکاے اپنے نام کا اقرار کیا. مجھے کچھ دیر کے لئے اپنے منہ سے نکلنے والی اس کے گالی جیسی عرفیت پے شرمدگی ہوئی مگر پھر خیال آیا کے وہ طوائف تھی اور اپنی بری شہرت کی زمہ دار. شرمندگی اس کو ہونی چاہیے تھی، مجھے نہیں. پھر اچانک مجھے احساس ہوا کے میری موتی جیسی مسجد میں اس طوائف کا نا پاک وجود کسی غلاظت سے کم نہیں تھا

باہر نکل کے کھڑی ہو. مسجد کو گندا نا کر بی بی، میں نے نفرت سے باہر گلی کی جانب اشارہ کیا.

اس نے کچھ اس حیرانگی سے آنکھ اٹھا کے میری طرف دیکھا کے جیسے اسے مجھ سے اس رویے کی امید نا ہو. ڈبڈبائی آنکھوں میں ایک لمحے کے لئے کسی انکہی فریاد کی لو بھڑکی. لیکن پھر کچھ سوچ کر اس نے آنسوؤں کے پانی میں احتجاج کے ارادے کو غرق کیا اور بغیر کوئی اور بات کئے چلی گی. میں نے بھی نا روکا کے پتا نہیں کس ارادے سے آیء تھی. اتنی دیر میں غلام شبّیر بھی پوھنچ گیا

.کون تھی میاں جی؟ کیا چاہتی تھی؟ غالباً اس نے عورت کو تو دیکھا تھا مگر دور سے شکل نہیں پہچان پایا

نوراں کنجری تھی. پتا نہیں کیوں آی تھی؟ مگر میں نے بھی وہ ڈانٹ پلائی کے آیندہ اس پاک جگہ کا رخ نہیں کرے گی. میں نے داد طلب نظروں سے غلام شبّیر کی طرف دیکھا مگر اس کے چہرے پر ستائش کی جگہ افسوس نے ڈیرے ڈال رکھے تھے

وہ بیچاری دکھوں کی ماری اپنے بچے کا گلہ کرنے آی تھی میاں جی. نبیل کی ماں ہے . بچے کی چوٹ برداشت نہیں کر سکی. اور آپ نے اس غریب کو ڈانٹ دیا. غلام شبّیر نے نوراں کی وکالت کرتے ہوئے کہا


تو نبیل نوراں کا بیٹا ہے.ایسی حرکتیں کرے گا تو سزا تو ملے گی. جیسی ماں ویسا بیٹا. میں نے اپنی شرمندگی کو بیہودگی سے چھپانے کی کوشش کی. ایک لمحے کو خیال بھی آیا کے بچہ تو معصوم ہے اور پھر میں نے زیادتی بھی کی تھی. مگر پھر اپنے استاد ہونیکا خیال آیا تو سوچا کے بچے کی بھلائی کے لئے ہی تو مارا ہے. کیا ہوا. اور پھر ایک طوائف کو کیا حق حاصل کے مسجد کے امام سے شکایت کر سکے

.کتنے بچے ہیں نوراں کے؟ میں نے بات کا رخ بدلنے کی کوشش کی

مسجد میں پڑھنے والے سب بچے نوراں کے ہیں میاں جی. اس کے علاوہ ایک گود کا بچہ بھی ہے. بس اس محلے میں صرف نوراں اپنے بچوں کو مسجد بھیجتی ہے. باقی سب لوگوں کے بچے تو آوارہ پھرتے ہیں. غلام شبّیر کی آواز میں پھر نوراں کی وکالت گونج رہی تھی. میں نے بھنا کر جواب دینے کا ارادہ کیا ہی تھا کے کوتوال صاحب کی گاڑی سامنے آ کر رکی. خود تو پتا نہیں کیسا آدمی تھا مگر بیوی بہت نیک تھی. ہر دوسرے تیسرے روز ختم کے نام پر کچھ نہ کچھ میٹھا بھجوا دیتی تھی. اس دن بھی کوتوال کا اردلی جلیبیاں دینے آیا تھا. گرما گرم جلیبیوں کی اشتہا انگیز مہک نے میرا سارا غصہ ٹھنڈا کر دیا اور نوراں کنجری کی بات آیی گیی ہوگیی

یہ نبیل کو مار پڑنے کے کچھ دنوں بعد کا ذکر ہے. عشاء پڑھا کے میں غلام شبّیر سے ایک شرعیی معاملے پر بحث میں الجھ گیا تو گھر جاتے کافی دیر ہوگیی. مسجد سے باہر نکلے تو بازار کی رونق شروع تھی. بالکونیوں پر جھلملاتے پردے لہرا رہے تھے اور کوٹھوں سے ہارمونیم کے سر اور طبلوں کی تھاپ کی آواز ہر سو گونج رہی تھی. پان سگریٹ اور پھولوں کی دکانوں پر بھی دھیرے دھیرے رش بڑھ رہا تھا. اچانک میری نظر نوراں کے گھر کے دروازے پرجا پڑی. وہ باہر ہی کھڑی تھی اور ہر آتے جاتے مرد سے ٹھٹھے مار مار کر گپپیں لگا رہی تھی. آج تو اس کا روپ ہی دوسرا تھا. گلابی رنگ کا چست سوٹ، پاؤں میں سرخ گرگابی، ننگے سر پے اونچا جوڑا، جوڑے میں پروئے موتیے کے پھول، میک اپ سے لدا چہرہ، گہری شوخ لپ سٹک، آنکھوں میں مسکارا اور مسکارے کی اوٹ سے جھانکتی ننگی دعوت

لاحول ولا قوت اللہ باللہ میں نے طنزیہ نگاہوں سے غلام شبّیر کی جانب دیکھا. آخر وہ نوراں کا وکیل جو تھا

چھوڑئیے میاں جی. عورت غریب ہے اور دنیا بڑی ظالم. اس نے گویا بات کو ٹالنے کی کوشش کی. مگر میں اتنی آسانی سے جان چھوڑنے والا نہیں تھا

یہ بتاؤ میاں، جب اس کے گاہک آتے ہیں تو کیا بچوں کے سامنے ہی.؟ میں نے معنی خیز انداز میں اپنا سوال ادھورا ہی چھوڑ دیا

میاں جی، ایک تو اس کے بچے صبح اسکول جاتے ہیں اور اس لئے رات کو جلدی سو جاتے ہیں. دوسرا، مہمانوں کے لئے باہر صحن میں کمرہ الگ رکھا ہے. غلام شبّیر نے ناگوار سے لہجے میں جواب دیا

استغفراللہ! استغفراللہ!. میں نے گفتگو کا سلسلہ وہیں ختم کرنا مناسب سمجھا کیوں کے مجھے احساس ہو چکا تھا کے غلام شبّیر کے لہجے سے جھانکتی ناگواری کا رخ نوراں کی جانب نہیں تھا 

اس کے بعد نوراں کا ذکر میرے سامنے تب ہوا جن دنوں میں اپنے اور زوجہ کے لئے حج بیت اللہ کی غرض سے کاغذات بنوا رہا تھا. اس غریب کی بڑی خواہش تھی کے وہ اور میں اللہ اور اس کے نبی پاک کی خدمت میں پیش ہوں اور اولاد کی دعا کریں. میرا بھی من تھا کے کسی بہانے سے مکّے مدینے کی زیارت ہوجاے. نام کے ساتھ حاجی لگا ہو تو شاید محکمے والے کسی اچھی جگہ تبدیلی کر دیں. زوجہ کا ایک بھانجا انہیں دنوں وزارت مذہبی امور میں کلرک تھا. اس کی وساطت سے درخواست کی قبولی کی کامل امید تھی. کاغذات فائل میں اکٹھے کیے ہی تھے کے غلام شبّیر ہاتھ میں کچھ اور کاغذات اٹھاے پوھنچ گیا

.میاں جیایک کام تھا آپ سے. اجازت دیں تو عرض کروں. اس نے ہچکچاتے کہا

ہاں ہاں میاں، کیوں نہیں. کیا بات ہے؟ میں نے داڑھی کے بالوں میں انگلیوں سے کنھگی کرتے ہوئے اس کو بیٹھنے کا اشارہ کیا

میاں جی، آپ کی تو وزارت میں واقفیت ہے. ایک اور حج کی درخواست بھی جمع کرا دیں. اس نے ہاتھ میں پکڑے کاغذات میری جانب بڑھاے

دیکھو میاں غلام شبّیر، تم اچھی طرح جانتے ہو کے میں گھر بار تمہارے ذمے چھوڑ کر جا رہا ہوں. اور پھر تمہارے پاس حج کے لئے پیسے کہاں سے آے؟ میں نے کچھ برہمی سے پوچھا

.نہیں نہیں میاں جی. آپ غلط سمجھے. یہ میری درخواست نہیں ہے. نوراں کی ہے. اس نے سہم کر کہا

کیا؟ میاں ہوش میں تو ہو؟ نوراں کنجری اب مکّے مدینے جائے گی؟ اور وہ بھی اپنے ناپاک پیشے کی رقم سے؟ توبہ توبہ. میرے تو جیسے تن بدن میں آگ لگ گیی یہ واہیات بات سن کر

میاں جی. طوائف ہے پر مسلمان بھی تو ہے. اور وہ تو اللہ کا گھر ہے. وہ جس کو بلانا چاہے بلا لے. اس کے لئے سب ایک برابر. اپنی طرف سے غلام شبّیر نے بڑی گہری بات کی

اچھا؟ اللہ جس کو بلانا چاہے بلا لے؟ واہ میاں واہ. تو پھر میں درخواست کیوں جمع کراؤں؟ نوراں سے کہو سیدھا اللہ تعالیٰ کو ہی بھیج دے. میں نے غصّے سے کہا اور اندر کمرے میں چلا گیا

زوجہ کا بھانجا بر خوردار نکلا اور اللہ کے فضل و کرم سے میری اور زوجہ کی درخواست قبول ہو گیء. ٹکٹ کے پیسے کم پڑے تو اسی بھلی لوک کے جہیز کے زیور کام آ گئے. اللہ کا نام لے کر ہم روانہ ہوگئے. احرام باندھا تو گویا عمر بھر کے گناہ اتار کے ایک طرف رکھ دیے. اللہ کا گھر دیکھا اور نظر بھر کے دیکھا. فرائض پورے کرتے کرتے رمی کا دن آ گیا. بہت رش تھا. ہزاروں لاکھوں لوگ. ایک ٹھاٹھیں مارتا سفید رنگ کا سمندر. گرمی بھی بہت تھی. میرا تو دم گھٹنا شروع ہوگیا. زوجہ بیچاری کی حالت بھی غیر ہوتی جا رہی تھی. اوپر سے غضب کچھ یہ ہوا کے میرے ہاتھ سے اس غریب کا ہاتھ چھوٹ گیا. ہاتھ کیا چھوٹا، لوگوں کا ایک ریلا مجھے رگیدتا ھوا پتا نہیں کہاں سے کہاں لے گیا. عجب حالات تھے. کسی کو دوسرے کا خیال نہیں تھا. ہر کوئی بس اپنی جان بچانے کے چکّر میں تھا. میں نے بھی لاکھ اپنے آپ کو سمبھالنے کی کوشش کی مگر پیر رپٹ ہی گیا. میں نیچے کیا گرا، ایک عذاب نازل ہوگیا. ایک نے میرے پیٹ پر پیر رکھا تو دوسرے نے میرے سر کو پتھر سمجھ کر ٹھوکر ماری. موت میری آنکھوں کے سامنے ناچنے لگی. میں نے کلمہ پڑھا اور آنکھیں بں د کی ہی تھیں کے کسی اللہ کے بندے نے میرا دایاں ہاتھ پکڑ کے کھینچا اور مجھے سہارا دے کر کھڑا کر دیا

میں نے سانس درست کی اور اپنے محسن کا شکریہ ادا کرنے کے لئے اس کی طرف نگاہ کی. مانو ایک لمحے کے لئے تو بجلی ہی گر پڑی. کیا دیکھتا ہوں کے میرا ہاتھ مضبوطی سے تھامے نوراں کنجری کھڑی مسکرا رہی تھی. یہ ناپاک عورت یہاں کیسے آ گیی؟ اس کی حج کی درخواست کس نے اور کب منظور کی؟ میں نے ہاتھ چھڑانے کی بہت کوشش کی مگر کہاں صاحب. ایک آہنی گرفت تھی. میں نہیں چھڑا سکا. وہ مجھے اپنے پیچھے کھینچتی ہوئی ایک طرف لے گیی. اس طرف کچھ عورتیں اکٹھی تھی. اچانک میری نظر زوجہ پر پڑی جس کی آنکھوں میں آنسو تھے اور وہ بیتاب نگاہوں سے مجمع ٹٹول رہی تھی. ہماری نظریں ملیں تو سب کلفت بھول گیی. میں دوڑ کر اس تک پہنچا اور آنسو پونچھے

.کہاں چلے گئے تھے آپ؟ کچھ ہوجاتا تو؟ پریشانی سے الفاظ اس کے گلے میں اٹک رہے تھے
بس کیا بتاؤں آج مرتے مرتے بچا ہوں. جانے کون سی نیکی کام آ گیی. میں تو پاؤں تلے روندا جا چکا ہوتا اگر نوراں نہیں بچاتی. میں نے اس کو تسلی دیتے ہوئے کہا

.نوراں؟ ہماری پڑوسن نوراں؟ وہ یہاں کہاں آ گی؟ آپ نے کسی اور کو دیکھا ہوگا. اس نے حیرانگی سے کہا

ارے نہیں. نوراں ہی تھی. میں نے ادھر ادھر نوراں کی تلاش میں نظریں دوڑایءں مگر وہ تو نجانے کب کی جا چکی تھی. بعد میں بھی اس کو بہت ڈھونڈا مگر اتنے جمے غفیر میں کہاں کوئی ملتا ہے

خدا خدا کر کے حج پورا ھوا اور ہم دونوں میاں بیوی وطن واپس روانہ ہوے. لاہور ائیرپورٹ پر غلام شببر پھولوں کے ہاروں سمیت استقبال کو آیا ہوا تھا

بہت مبارک باجی. بہت مبارک میاں جی. بلکہ اب تو میں آپ کو حاجی صاحب کہوں گا. اس نے مسکراتے ہوئے ہم دونوں کو مبارک دی تو میری گردن حاجی صاحب کا لقب سن کراکڑ گیی. میں نے خوشی سے سرشار ہوتے ہوے اس کے کندھے پے تھپکی دی اور سامان اٹھانے کا اشارہ کیا

ٹیکسی میں بیٹھے. میں نے مسجد اور گھر کی خیریت دریافت کی تو نوراں کا خیال آ گیا.

.میاں غلام شببر، نوراں کی سناؤ. میرا اشارہ اس کی حج کی درخواست کے بارے میں تھا

.اس بیچاری کی کیا سناؤں میاں جی؟ لیکن آپ کو کیسے پتا چلا؟ اس نے حیرانگی سے میری جانب دیکھا

.بس ملاقات ہوئی تھی مکّے شریف میں. میں نے اس کے لہجے میں چھپی اداسی کو اپنی غلط فہمی سمجھا

مکّے شریف میں ملاقات ہوئی تھی؟ مزاق نا کریں میاں جی. نوراں تو آپ کے جانے کے اگلے ہی دن قتل ہوگیی تھی. اس نے گویا میرے سر پر بم پھوڑا

.,قتل ہوگیی تھی؟ میں نے اچھنبے سے پوچھا

جی میاں جی. بیچاری نے حج کے لئے پیسے جوڑ رکھے تھے. اس رات کوئی گاہک آیا اور پیسوں کے پیچھے قتل کر دیا غریب کو. ہمیں توصبح کو پتا چلا جب اس کے بچوں نے اس کی لاش دیکھی. شور مچایا تو سب اکٹھے ہوئے. پولیس والے بھی پہنچ گئے اور اس کی لاش پوسٹ مارٹم کے لئے لے گئے. ابھی کل ہی میں مردہ خانے سے میّت لے کے آیا ہوں. آج صبح ہی تدفین کی اس کی. غلام شببر کی آواز آنسوں میں بھیگ رہی تھی

.قاتل کا کچھ پتا چلا؟ میں ابھی بھی حیرانگی کی گرفت میں تھا.

پولیس کے پاس اتنا وقت کہاں میاں جی کے طوائفوں کے قاتلوں کو ڈھونڈہے. اس بیچاری کی تو نمازجنازہ میں بھی بس تین افراد تھے: میں اور دو گورکن. اس نے افسوس سے ہاتھ ملتے ہوئے کہا

.اور اس کے بچے؟ ان کا کیا بنا؟ میں نے اپنی آنکھوں میں امڈ تی نمی پونچھتے ہوئے دریافت کیا

نوراں کے بچے نہیں ہیں میاں جی. غلام شببر نے مرے کان میں سرگوشی کی. طوائفوں کے محلے میں جب کوئی لڑکا پیدا ہوتا ہے تو زیادہ تر اسے راتوں رات اٹھا کر کوڑے کے ڈھیرپر پھینک دیا جاتا ہے. وہ سب ایسے ہی بچے تھے. نوراں سب جانتی تھی کے کس کے ہاں بچہ ہونے والا ہے. بس لڑکا ہوتا تو اٹھا کر اپنے گھر لے آ تی. کہنے کو تو طوائف تھی میاں جی مگر میں گواہ ہوں. غریب جتنا بھی کماتی بچوں پے خرچ کر دیتی. بس تھوڑے بہت الگ کر کے حج پے جانے کے لئے جمع کر رکھے تھے. وہ بھی اس کا قاتل لوٹ کر لے گیا

یہ بتاؤ غلام شببر، جب میں نے اس کی درخواست جمع کرانے سے انکار کیا تو اس نے کیا کہا؟ مجھ پے حقیقتوں کے در کھلنا شروع ہو چکے تھے

بس میاں جی، کیا کہتی بیچاری. آنکھوں میں آنسو آ گئے. آسمان کی جانب ہاتھ اٹھاے اور کہنے لگی کے بس تو ہی اس کنجری کو بلاے تو بلا لے. مجھ پر تو پوچھو گھڑوں پانی پڑ گیا. تاسف کی ایک آندھی چل رہی تھی. ہوا کے دوش میری خطائیں اڑرہی تھیں. گناہوں کی مٹی چل رہی تھی اور میری آنکھیں اندھیائی جا رہی تھیں

آپ کیوں روتے ہیں میاں جی؟ آپ تو ناپاک کہتے تھے اس کو. غلام شبّیر نے حیرانگی سے میری آنسوں سے تر داڑھی دیکھتے ہوئے کہا

کیا کہوں غلام شببر کے کیوں روتا ہوں. وہ ناپاک نہیں تھی. ناپاک تو ہم ہیں جو دوسروں کی ناپاکی کا فیصلہ کرتے پھرتے ہیں. نوراں تو اللہ کی بندی تھی. اللہ نے اپنے گھر بلا لیا. میری ندامت بھری ہچکیاں بند ہونے کا نام نہیں لے رہی تھیں اور غلام شببر نا سمجھتے ہوئے مجھے تسّلی دیتا رہا
ٹیکسی محلے میں داخل ہوئی اور مسجد کے سامنے کھڑی ہوگیی. اترا ہی تھا کے نوراں کے دروازے پے نظر پڑی. ایک ہجوم اکٹھا تھا وہاں

کیا بات ہے غلام شببر؟ لوگ اب کیوں اکٹھے ہیں؟

میاں جی میرے خیال میں پولیس والے ایدھی سنٹر والوں کو لے کے آے ہیں. وہ ہی لوگ بچوں کو لے جاییں گے. ان غریبوں کی کوئی دیکھ بھال کرنے والا نہیں ہے. غلام شببر نے کچھ سوچتے ہوئے کہا

میں نے زوجہ کا ہاتھ پکڑا اور غلام شببر کو پیچھے آنے کا اشارہ کرتے ہوئے نوراں کے دروازے کی جانب بڑھ گیا

.کہاں چلے میاں جی؟ غلام شببر نے حیرانگی سے پوچھا

نوراں کے بچوں کو لینے جا رہا ہوں. آج سے وہ میرے بچے ہیں. اور ہاں مسجد کا نام میں نے سوچ لیا ہے. آج سے اس کا نام نور مسجد ہوگا