خوشاب نیوز ڈاٹ کام)ڈپٹی کمشنر خوشاب مسرت جبیں نے خصوصی افراد کی بحالی اور ٹریننگ کمیٹی کے ضلعی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت پنجاب کے احکامات کی روشنی میں خصوصی افراد کو ان کی بحالی کے لئے مالی امداد،ہیرنگ ایڈاور ویل چیئرزدی جائیں گی اس ضمن میں خصوصی افراد سے باقاعدہ طور پر درخواستیں طلب کر لی گئی ہیں،درخواستیں دینے کی آخری تاریخ 15 ستمبر ہے۔درخواستیں ڈپٹی ڈائر یکٹر سوشل ویلفیئر کے دفتر میں جمع ہوں گی۔درخو استوں کی چھان بین 20ستمبر تک کی جائے گی۔اجلاس میں ڈپٹی ڈائریکٹر سوشل ویلفیئر امتیاز احمد مانگٹ،اسسٹنت ڈائریکٹر لیبر ویلفیئر غلام شبیر اور خصوصی افراد کے فوکل پرسنز موجود تھے۔ڈپٹی ڈائریکٹر سوشل ویلفیئر نے بتایا کہ وہ خصوصی افراد جن کے پاس محکمہ سوشل ویلفیئر کی جانب سے جاری کردہ معذوری سٹریفیکیٹ ہو گا وہ درخواست دینے کے اہل ہوں گے۔علاہ ازیں وہ خصوصی افراد جو کسی اور ادارہ کی جانب سے پہلے ہی مالی امداد لے چکے ہیں وہ درخواست دینے کے اہل نہ ہوں گے۔امیتاز احمد مانگٹ نے بتایا کہ حکومت پنجاب کی ہدایت پر خصوصی افراد کو فنی تربیت دینے کے لئے ٹریننگ سنٹرکا قیام بھی عمل میں لایا جائے گا۔
موضوعات
آمدو رفت
تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.
پرانی خبریں
Tags
Database (Disable)
Recent
Follow us on Twitter
Recent
Comments
Contact us
Random Posts
Most Viewed
-
اس کے نام کی پورے پاکستان میں زبردست دھوم ہی نہیں تھی بلکہ غیر ملکی ذرائع ابلاغ بھی ایک عرصہ تک اس شخص سے متعلق سنسنی غیر معاملات نشر...
-
نوشہرہ وادی سون (نمائندہ خوشاب نیوز ڈاٹ کام )پہلا کا شف شاہ تھو بی والی بال ٹورنامنٹ موضع پیل میں ہوا جس میں ضلع خوشاب چکوال کی ٹیمو ں ن...
-
محمد خان ڈھرنالیہ ۔۔۔ تحریر و تحقیق محمد علی اسد بھٹی محمد خان آف ڈھرنال کچھ عرصہ امن سے گزر گیا محمد خان دنگے فساد سے دور پر س...
جمعرات، 29 اگست، 2019
یکجہتی کشمیر ریلی کی تیاریاں مکمل
خوشاب نیوز ڈاٹ کام)ڈپٹی کمشنر خوشاب مسرت جبیں نے کشمیر یوں سے یکجہتی کے حوالے سے ایک منعقدہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ 30اگست بروز جمعتہ المبارک کو دن ساڑھے گیارہ بجے سرور شہید لائبریری چوک جوہرآباد سے مین بازارکالج چوک تک ایک ریلی نکالی جائے گی۔ریلی کے اختتام پر دو منٹ کی خاموشی اختیار کی جائیگی،پاکستان وکشمیر کے قومی ترانے لگائے جائیں گے کشمیر کے حوالے سے تقاریر اور گفتگو ہو گی۔اجلاس میں ایم پی اے ساجدہ بیگم،اے ڈی سی (جی)نادیہ شفیق،اے ڈی سی (آر)عدیل حیدر،اسسٹنٹ کمشنرخوشاب افتخار حسین بلوچ،ہیلتھ اور ایجوکیشن کے سی اوز ڈاکٹر امان اللہ اور میاں محمد اسماعیل،ایڈیشنل ڈائریکٹر لائیوسٹاک ڈاکٹر نائلہ مقصود،ڈسڑکٹ وائلڈ لائف آفیسر عامر خان کے علاوہ ایمرجنسی ریسکیو 1122،پولیس،سوشل ویلفیئر اور متفرق محکموں کے افسران اور نمائیندگان موجود تھے۔ڈپٹی کمشنر نے تمام محکموں کے سربراہان کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے تمام سٹاف ممبرز سمیت گیارہ بجے سرورشہید لائبریری چوک پر اکٹھے ہوں جہاں تمام محکموں کے افسران اور عملہ کی باقاعدہ حاضری لگائی جائے گی۔اس دوران وہاں کوئی بھی آفیسریا سٹاف ممبرغیر حاضر پایا گیا تو اس کے خلاف سخت تادیبی کاروائی ہوگی۔اسسٹنٹ کمشنر افتخار حسین بلوچ تمام محکموں کے افسران اور سٹاف کی حاضری چیک کریں گے۔ڈپٹی کمشنر نے تمام محکموں کو پاکستان و کشمیر کے جھنڈے اور بینرز ہمراہ لانے کی بھی ہدایت کی۔
رانا ثنا اللہ کے خلاف منشیات کیس کی اندرونی کہانی سامنے آگئی
خوشاب نیوز ڈاٹ کام
رانا ثناء اللہ کا جیل سے خط ،جج کی تبدیلی سمیت پوری کہانی بیان کر دی
رانا ثناء اللہ صدر مسلم لیگ ن پنجاب
میں کس حال میں ہوں
مجھے منشیات کے کیس میں ایک سازش کے تحت گرفتار کیا کیا گیا ہے جس کی سزا موت ہے اور یہ سازش چھ مہینے پہلے بنائی گئی تھی کیونکہ میں پارلیمان میں سیاسی حوالے سے اپنا بھرپور کردار ادا کر رہا تھا . مجھے جیل میں قید تنہائی میں رکھا گیا ہے اور اس کوٹھری میں رکھا گیا ہے جہاں سزائے موت کے مجرموں کو رکھا جاتا ہے۔ مجھے اپنی فیملی کے علاوہ کسی سے ملنے کی اجازت نہیں ہے. جیل کے افسران معائنے کے لئے آتے ہیں. یہ ایک مشکل وقت ہے مگر یہ وقت بھی گزر جائے گا.
میرے خلاف سازش کب تیار ہوئی ؟
مئی کے مہینے میں مجھے ایک خیر خواہ نے بتایا کہ تمہارے گرد گھیرا تنگ کیا جارہا ہے ، یہ وہ خیر خواہ تھے جو فیصلے کرنے والوں میں شامل تھے.کچھ لوگوں نے مجھے بتایا تھا کہ ایف آئی اے اور نیب کے پاس تمھارے خلاف کوئی ثبو ت نہیں اس لئے ممکن ہے تمھیں سڑک پر کہیں روک لیا جائے گا ، مجھے اس قید کے دوران اس قید کی یاد آتی ہے جب مجھے گرفتار کرکے میری مونچھیں اور بھنویں کاٹ دی گئی تھیں . مجھے ہر وقت تشدد کا نشانہ بنایا جاتا تھا .
گرفتاری سے پہلے میں نے ان لوگوں سے پوچھا کہ کیا اب خطرہ ٹل چکا ہے یا باقی ہے، مگر جواب نفی میں تھا اور کہا گیا کہ تمھارا 3 یا چار مرتبہ پیچھا کیا گیا مگر پولیس اسکواڈ کی وجہ سے گرفتار نہیں کیا گیا، اب ہوسکتا ہے کہ تمہاری سکیورٹی واپس لے لی جائے،یہ بات سچ ثابت ہوئی اور مئی کے آخری ہفتے میں میری سکیورٹی واپس لے لی گئی. پاکستان مسلم لیگ ن میں تفرقے پیدا کئے جارہے تھے، ہمارے کئی ارکان کو خرید کر فارورڈ بلاک بنانے کی کوششیں کی جارہی تھیں . میں نے تمام مشکلات کے باوجود اپنے ساتھ پرائیویٹ سکیورٹی اسکواڈ رکھ لیا کیونکہ مجھ پر مذہبی حوالے سے ایک فتنہ انگیز مہم چلائی گئی تھی .
گرفتاری کے روز کیا ہوا؟
گرفتاری کے روز میں فیصل آباد سے لاہور میں پارٹی کے اجلاس میں جا رہا تھا جب اے این ایف کے اسکواڈ نے بیچ سڑک مجھے روک کر میرے ڈرائیور کو گاڑی سے اتار دیا . اے این ایف نے اہکار نے ڈائیونگ سیٹ سنبھال لی اور مجھے اے این ایف پہنچا دیا گیا .مجھے اور میرے سکیورٹی گارڈز کو وہاں نظربند کردیا گیا اور اگلے دن عدالت میں پیش کیا گیا۔ وہاں مجھے اپنی گاڑی سے ہیروئن کی بازیابی کے الزامات کے بارے میں معلوم ہوا ۔اس سے پہلے مجھے نہ تو اس کے بارے میں بتایا گیا تھا اور نہ ہی کوئی تفتیش کی گئی ہے ۔
الزامات کے ثبوت اور جج کو سماعت سے روکنے کا امکان
میرے سیکورٹی گارڈ ابھی تک جیل میںہیں . میرے بارے میں کہا گیا کہ منشیات برآمدگی کی ویڈیو بھی بنائی گئی ہے تاہم ابھی تک ویڈیو پیش نہیں کی گئی .اگر منشیات بر آمدگی کی ویڈیو ہوتی تو میرا بیان دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کیا جاتا . مجھ پر الزام لگایا گیا کہ میں منشیات کے ایک عالمی نیٹ ورک کا حصہ ہوں لیکن کسی کی گواہی کو شامل نہیں کیا گیا . اے این ایف کے اہلکار ہی اس سارے کیس کے شکایت کنندہ اور گواہ ہیں .امکان ہے کہ اے این ایف کے جج کو بھی مقدمے کی سماعت سے روک دیا جائے گا کیونکہ انہیں شک ہے کہ جج قانونی تقاضے پورے نہ ہونے کی وجہ سے میرے بارے میںنرم رویہ اختیار کر سکتا ہے .
بارہ سالہ گھریلو ملازمہ کوزیادتی کا نشانہ بنا کر زہر دیدیا
خوشاب نیوز ڈاٹ کام)نیو سیٹلائٹ ٹائون جوہرآباد میں جنید نامی ایک نوجوان نے گھریلو ملازمہ 12سالہ بچی کو نشہ آور دوائی پلا کر جنسی تشدد کا نشانہ بنا دیا اور اپنے جرم کی پردہ پوشی کیلئے اُسے زہر کھلا دی۔ بارہ سالہ علینا کو ضلعی ہیڈ کوارٹر ہسپتال جوہرآباد منتقل کر دیا گیا تھا جہاں ڈاکٹروں کی سر توڑ کوششوں کے بعد متاثرہ بچی کی جان بچانے میں کامیاب ہو گئے اور اب اسکی حالت خطرے سے باہر بیان کی جاتی ہے سٹی پولیس جوہرآباد نے علینا کے والد کی رپورٹ پر ملزم جنید کے خلاف زیر دفعات376 اور 337j ت پ مقدمہ درج کر کے اُسے گرفتار کر لیا۔ ایف آئی آر کے مطابق رحمن کالونی کی رہائشی بارہ سالہ بچی نیو سیٹلائٹ ٹائون جوہرآباد میں ایک خاتون شمیم زوجہ حاجی کے ہاں ملازم تھی اور اس کے گھریلو کام کاج کرتی تھی۔ اس دوران شمیم کے بھتیجے جنید نے تنہائی میں اُسے کوئی نشہ آور چیز کھلا دی اور اُسے زیادتی کا نشانہ بنایا اور زہر دے کر قتل
کرنے کی کوشش کی۔
نوٹ:صحافتی ضابطہ اخلاق کے مطابق جنسی زیادتی کا نشانہ بننے والی بچی کی تصویر ، نام یا شناخت شائع نہ کرنا خوشاب نیوز ڈاٹ کام کی پالیسی ہے
کشمیر کو کوئی پاکستان سے جدا نہیں کرسکتا، امیر حیدر سنگھا

خوشاب نیوز ڈاٹ کام) سابق چیئر مین ضلع کونسل خوشاب ملک امیر حیدر سنگھا نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں تاریخ کا بدترین کریک ڈاؤن جاری ہے، جیلوں میں جگہ کم پڑ گئی، وادی میں انسانی بحران ہے، خوراک اور ادویات بھی نہیں مل رہیں مقبوضہ کشمی کا مسلسل 25 روز سے دنیا سے رابطہ منقطع ہے، عوام کرفیو کے باوجود سڑکوں پر ہیں اور احتجاج کر رہے ہیں۔ یہاں مقامی صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے حل کا ایک ہی راستہ ہے، کشمیر کے معاملے کو کشمیریوں کی امنگوں کے مطابق، اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کیا جائے۔ امیر حید ر سنگھا نے مزید کہا کہ کشمیری عوام پر بھارتی مظالم پر خاموش نہیں رہ سکتے،ہمار اجینا مرنا اور دکھ سکھ سانجھے ہیں، کشمیر کو کوئی پاکستان سے جدا نہیں کرسکتا، کل وزیراعظم عمران خان کی اپیل پر کشمیریوں سے یکجہتی کے لئے عوام باہر نکلیں گے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جمعے کے روز پاکستانی عوام کشمیریوں سے محبت اور یکجہتی کا بھرپور اظہار کریں گے۔
بدھ، 28 اگست، 2019
کیا بھارت کو نیوکلیئر حملے کی سفارتی حمایت مل گئی ہے؟
سید سردار احمد پیرزادہ
پاکستان کو بھارت کی طرف سے جارحیت کا خطرہ ہمیشہ سے محسوس ہوتا آیا ہے۔ بھارت پر پاکستان کے شک کی وجوہات محض خیالی نہیں بلکہ منطقی اور عملی ہیں۔ سفارتی و معاشی میدانوں سے لے کر سازشی حربوں تک بھارت نے پاکستان کو نقصان پہنچانے میں کبھی کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی۔ بھارت کے پاس اس کی جو بھی منطق ہو لیکن یہ بات ریکارڈ کی ہے کہ پاکستان کو ہی ہمیشہ بھارت کے ہاتھوں دور رس نقصان ہوا ہے اور نقصان پہنچانے کی اپنی فتح کا اعلان بھی بھارتی حکام نے ہربار بڑی دیدہ دلیری سے کیا ہے۔ اس کا سب سے بڑا ثبوت بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا اپنی جوانی میں مشرقی پاکستان کو مغربی پاکستان سے علیحدہ کروانے کی عملی جدوجہد میں مکتی باہنی کے ساتھ شانہ بشانہ لڑنے کا اعتراف ہے۔ بھارت کی عددی برتری اور بین الاقوامی تعلقات میں مختلف وجوہات کی بناء پر گہری دوستیوں کے باعث پاکستان نے اپنے آپ کو محفوظ رکھنے کے لیے ایٹمی پروگرام کا سہارا لیا۔ 80ء کی دہائی کے بعد بھارت اپنی خواہش کے مطابق پاکستان کو کوئی جغرافیائی نقصان پہنچانے میں کامیاب نہ ہوا۔ اس کی وجہ بھارت کا نیک ہو جانا نہیں تھا بلکہ پاکستان کی نیوکلیئر برابری تھی۔ یہی وجہ ہے کہ ہمیں جنرل ضیاء الحق سے لے کر عمران خان تک سب سربراہان بھارت کو نیوکلیئر جنگ کے خطرات سے آگاہ کرتے نظر آئے ہیں۔ اس کا پہلا مظاہرہ جنرل ضیاء الحق کی کرکٹ ڈپلومیسی کے دوران راجیوگاندھی سے ایئرپورٹ پر الوداعی ملاقات کے دوران ہوا۔ اس کے فوراً بعد پاکستان کی سرحدوں پر بڑی تعداد میں موجود بھارتی فوجیں واپس بیرکوں میں چلی گئیں۔ اسی طرح کے بعد میں بھی کئی چھوٹے بڑے مواقع آئے جن میں سے ایک نمایاں بیان وہ تھا جب وزیراعظم نواز شریف نے کارگل کی جنگ کے موقع پر اپنی قومی تقریر میں کہا تھا کہ ایٹمی جنگ میں مرجانے والے خوش قسمت اور بچ جانے والے بدقسمت ہوتے ہیں۔ جنرل پرویز مشرف کے ابتدائی دور میں جب بھارت نے اپنی پوری فوجی تیاری کے ساتھ ایک صبح پاکستان پر زمینی اور ہوائی حملے کا منصوبہ بنا لیا تو چند گھنٹے پہلے جنرل پرویز مشرف کے وائرلیس پر اوپن میسج نے بھارت کو اس مہم جوئی سے باز کردیا۔ گویا یہ کہنا درست ہوگا کہ ایٹمی جنگ کی اشارتاً بات بھی دنیا میں پریشانی پیدا کردیتی تھی جس کے باعث کسی نہ کسی مصالحتی کوشش یا بیک ڈور ڈپلومیسی کے ذریعے پاک بھارت جنگ کے خطرات کچھ دیر کے لیے ٹل جاتے تھے لیکن گزشتہ تین ہفتوں سے نیوکلیئر ڈیٹرنس اور ایٹمی خطرے کی بات دنیا کے نزدیک بے معنی ہوتی نظر آرہی ہے۔ بھارت نے 5اگست 2019ء کو جب مقبوضہ کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کی تو پاکستان کے عوام نے اِسے بڑی فکرمندی سے لیا۔ عوام کے جذبات پر پاکستانی حکمرانوں نے سابقہ حکمرانوں کی طرح کئی مرتبہ دنیا کو ایٹمی جنگ کے خطرات سے آگاہ کرنے کی کوشش کی۔ پہلے کی طرح ان بیانات کا نتیجہ یہی نکلنا چاہیے تھا کہ انٹرنیشنل سیانے دونوں ملکوں کے ساتھ رابطے کرکے معاملے کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کرتے مگر اس حوالے سے یہ بہت بڑی تبدیلی دیکھنے میں آئی کہ دونوں ملکوں کو سمجھانے کی بجائے پاکستان کے موجودہ ایٹمی خطرات کی تشویش کو دنیا نے نظر انداز کیا۔ اس سے بھی بڑھ کر تشویش ناک ڈیویلپمنٹ یہ ہوئی کہ بھارتی وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے بھارت کی نیوکلیئر وار کی پالیسی میں تبدیلی کا اشارہ دیتے ہوئے کہا کہ ”بھارت اب تک پہلے نیوکلیئر حملہ نہ کرنے کی پالیسی پر گامزن تھا لیکن اب اس پالیسی کا تعلق مستقبل کے حالات سے ہوگا“۔ راجناتھ سنگھ کے بیان کو بالکل بھی ڈی کوڈ کرنے کی ضرورت نہیں بلکہ یہ براہِ راست پیغام تھا۔ بہت زیادہ فکر کی بات یہ تھی کہ بھارتی وزیر دفاع کے اس بیان پر بھی انٹرنیشنل سطح پر کوئی خاص ہلچل نہیں ہوئی۔ اب دونوں طرف کی بیاناتی ڈیویلپمنٹ کا تجزیہ کیا جائے تو صاف صاف لگتا ہے کہ پاکستان اور بھارت ایک دوسرے پر ایٹمی ہتھیار استعمال کرنے کی براہِ راست بات کرنے لگے ہیں۔ گزشتہ 72 برس کی تاریخ میں ایسا پہلی مرتبہ ہوا ہے اور یہ بھی پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ پاک بھارت ایٹمی جنگ کے خطرات پر انٹرنیشنل برادری خاموش ہو بلکہ یہ کہنا درست ہوگا کہ انٹرنیشنل برادری ایٹمی جنگ کے خطرات کو نظر انداز کرکے بھارت کو سفارتی اور معاشی میدانوں میں زیادہ تقویت دے رہی ہے۔ پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے قوم سے حالیہ خطاب میں ایک مرتبہ پھر ایٹمی جنگ کی ہولناکی کی بات کی ہے۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ ”پاکستان کی فوج اور عوام ہرطرح سے بھارتی جارحیت کا مقابلہ کرنے کو تیار ہیں“۔ وزیراعظم عمران خان کے اِس بیان کا وہی مطلب ہے جو وہ کہہ رہے تھے لیکن تشویش ناک سوال یہ پیدا ہو رہا ہے کہ انٹرنیشنل برادری دونوں ملکوں کے درمیان ایٹمی جنگ کے خطرات کو کم کرنے کے لیے کوئی کوشش نہیں کررہی بلکہ شاید اِسے صرف دیوانوں کی بڑھک سمجھ رہی ہے یا انٹرنیشنل برادری کے وہ تماش بین جو جنگوں کا مزا لیتے ہیں اور اپنا اسلحہ بیچتے ہیں وہ اِس مرتبہ خدانخواستہ کسی چھوٹی ایٹمی جنگ کا تماشا دیکھنا چاہتے ہوں اور ہو سکتا ہے کہ اِس کے فلمی کلپس بعد کی ہالی ووڈ فلموں میں استعمال کرکے اربوں ڈالر کمائے جائیں۔ معاملہ جو بھی ہے وہ ایک الگ بات لیکن اِس وقت دونوں ملکوں کے درمیان ایٹمی جنگ کے حوالے سے عالمی برادری کی بظاہر بے حسی دونوں ملکوں کی سفارت کاری کے مرہونِ منت ہے۔ اس کو ڈی کوڈ کیا جائے تو ایک یہ بات پتہ چلتی ہے کہ بھارت اپنے جارحانہ فیصلے کے بعد عرب دنیا میں پاپولر ہوا ہے اور مغربی دنیا میں بھی اُسے کسی خاص سفارتی شکست کا سامنا نہیں ہوا۔ اس کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ پاکستان کا سفارتی گراف عرب دنیا میں کم ہوا ہے اور مغربی دنیا میں بھی کوئی خاص شنوائی نہیں ہوئی۔ اس تجزیئے کو سوچا جائے تو لرزہ طاری ہو جاتا ہے کہ کیا بھارت ایٹمی جنگ کے حوالے سے عرب اور مغربی دنیا کی درپردہ حمایت حاصل کرچکا ہے؟ اگر ایسا ہے تو کیا انٹرنیشنل ادارے ایٹمی جنگ کے اثرات کے معیار کی پیمائش کرچکے ہیں؟ اگر ایسا ہے تو ہوسکتا ہے انہیں پاکستان کی سیکنڈ سٹرائیک کے معیار اور پیمائش کا صحیح اندازہ نہ ہو۔ اگر خدانخواستہ سب کچھ ایسا ہی ہوا تو بھارت کی جارحیت، عالمی سوداگروں کی بے حسی اور مسلم دنیا کی مفاد پرستی کے موجودہ واقعات کی تاریخ کئی صدیوں بعد لکھی جائے گی کیونکہ برصغیر کی اس ایٹمی جنگ کے اثرات صدیوں تک ساتوں براعظموں پر موجود رہیں گے اور بچ جانے والے تاریخ لکھنے کی بجائے اپنی زندہ رہنے کی بدقسمتی
پر سسک سسک کر روئیں گے۔
The First Blind Journalist of Pakistan
APNS Best Urdu Column Award Holder
ای میل:saafsaaf@live.com
دو خواتین اغوا
خوشاب نیوز ڈاٹ کام )خوشاب اور نواحی علاقوں میں دو خواتین کو اغواء کر لیا گیا' اغواء کی پہلی واردات جھوک بادشاہانوالہ خوشاب میں ہوئی جہاں محمد عمران ' شکیل' شیر باز ' جہان خان اور اُن کے ساتھیوں نے ایک شادی شدہ خاتون سائرہ بشیر کو اغواء کیا۔ خوشاب پولیس نے مغویہ کے والد منیر حسین کی مدعیت میں ملزمان کیخلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔ اغواء کی دوسری واردات وسطی شیر والی میں ہوئی جہاں محمد رمضان نے اپنے دو نامعلوم ساتھیوں کی معاونت سے محمد افضل کی بیٹی رُخسانہ کو اغواء کیا پولیس نے دونوں وارداتوں کے ملزمان کی تلاش شروع کر دی ہے تاہم ابھی تک مغوی خواتین بازیافت نہیں ہوئیں۔
کرایہ داری ایکٹ کی خلاف ورزی پر 4 افراد کیخلاف مقدمہ
خوشاب نیوز ڈاٹ کام )مقامی پولیس نے دو مکانوں کے مالکان اور اُن کے کرایہ داروں کیخلاف پولیس کو اطلاع دیئے بغیر رہائشی مکانات کرائے پر دینے کے الزام میں پنجاب انفارمیشن آرڈیننس کے تحت مقدمات درج کئے ہیں۔ ایف آئی آر کے مطابق محلہ بادشاہانوالہ کے محمد عرفان نے اپنا مکان عمر عباس کو جبکہ محلہ حسین آباد خوشاب کے عمر دراز نے اپنا مکان تصور عباس کو کرایہ پر دے رکھا تھا اور پولیس کے پاس اندراج نہیں کرایا تھا۔
ڈاکٹرز کی مبینہ غفلت، زچہ بچہ دونوں جاں بحق

خوشاب نیوز ڈاٹ کام) تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال خوشاب میں ڈاکٹرز کی مبینہ غفلت دوران ڈلیوری ماں بچہ جان بحق، لواحقین کا کٹھہ چوک میں میت رکھ کر احتجاج ٹریفک جام ،لواحقین کے مطابق یاسمین زوجہ محمد خان سکنہ پرانا چوک کو ڈلیوری کے سلسلہ میں ہسپتال لایا گیا جہاں پر لیڈی ڈاکٹر نوشین نے مریض کو پرائیویٹ کلینک پر بھیجنے کیلئے زور دیا غریب ہونے کی وجہ سے ہم پرائیویٹ علاج نہ کراسکے ،جس پر ہمیں دو روز مختلف ٹیسٹوں اور خون کی دستیابی کیلئے ذلیل و خوار کیا گیا ،لواحقین وزیر اعلی پنجاب عثمان بازار سے ایم ایس اور متعلقہ ڈاکٹرز کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
کشمیریوں کی اذیت، مودی کا شوہد اپن اور وزیراعظم کا خطاب
پیرکی صبح اُٹھ کر حسبِ عادت یہ کالم لکھنے سے قبل اخبارات کی سرخیوں پر نگاہ ڈالی تو اطلاع ملی کہ وزیر اعظم عمران خان صاحب اس روز کی سہ پہر قوم سے خطاب فرمائیں گے۔ اس خطاب کے لئے ساڑھے پانچ بجے کا وقت طے ہوا تھا۔ قوم سے خطاب کے لئے انتہائی ہنگامی حالات کے علاوہ ایسا وقت مختص نہیں کیا جاتا۔ کوشش ہوتی ہے کہ شام کے آٹھ سے نو بجے کے درمیان کے 30منٹ چنے جائیں۔ روزمرہّ زندگی کے معمولات سے فارغ ہوکر زیادہ سے زیادہ لوگ اپنے گھروں میں بیٹھ کر حکومتی سربراہ کے خطاب کو غور سے سن پائیں۔
ٹی وی چینلوں کے فروغ کے بعد شام سات سے آٹھ بجے کے درمیان لمحات کو ترجیح دینے کی روایت متعارف ہوئی۔ اس کی بدولت رات بارہ بجے تک جاری ٹاک شوزکے اینکر خواتین وحضرات ’’قوم سے خطاب‘‘ کے دوران اٹھائے موضوع پر توجہ دینے کو مجبور ہوئے۔ ٹاک شوز کی ’’افادیت‘‘ نے بتدریج ایسے خطاب کے لئے شام کے ساڑھے چھ بجے کو بہتر وقت قرار دیا۔
ساڑھے پانچ کے انتخاب نے مجھے سوچنے کو مجبور کیا ۔ دو کے ساتھ دو کو جمع کرکے چار نکالنے والی منطق استعمال کرتے ہوئے میں نے اپنی سہولت کے لئے یہ فرض کرلیا کہ وزیر اعظم صاحب نے فرانس میں پیر کے روز ہونے والی ٹرمپ-مودی ملاقات کے اختتام کے فوری بعد قوم سے خطاب کرنے کا ارادہ باندھا ہے۔
ہمارے کئی جید صحافی جنہیں ریاستی ایوانوں تک مؤثر رسائی حاصل ہے گزشتہ چند دنوں سے اپنے کالموں، ٹی وی شوز اور ٹویٹس کے ذریعے ہمیں یہ امید دلارہے تھے کہ کشمیر کے بارے میں ’’اچھی خبریں‘‘ آنے والی ہیں۔’’ذرائع‘‘ کی بدولت انہیں غالباََ بتایا گیا تھا کہ بھارتی وزیر اعظم کے ساتھ ملاقات کے دوران امریکی صدر مقبوضہ کشمیر میں 5اگست سے مسلط ہوئے لاک ڈائون کے بارے میں تشویش کا اظہار کرے گا۔ نریندرمودی سے یہ وعدہ کروایا جائے گا کہ وہ ’’انسانی حقوق‘‘ کی خاطر تھوڑی نرمی دکھائے۔
ذاتی طورپر میرا ہمیشہ اصرار رہا ہے کہ موجودہ امریکی صدر ’’انسانی حقوق‘‘ نامی کسی شے سے واقف ہی نہیں۔اپنے ہی ملک کے صحافیوں کو ’’عوام دشمن‘‘ قرار دیتا ہے۔امریکی کانگریس کے لئے باقاعدہ منتخب ہوئی دو مسلم خواتین کو اسرائیل کا ویزا ملنے پر ناراض ہوجاتا ہے۔اپنے جلسوں میں ان کے خلاف Go Backیعنی اپنے (آبائی) ملک واپس جائو کے نعرے لگواتا ہے۔ میں اس سے مقبوضہ کشمیر میں ’’انسانی حقوق‘‘ کی پائمالی کے بارے میں فکرمندی کی ہرگز امید نہیں رکھتا۔
سفارت کاری کے تقاضوں کا ادنیٰ طالب علم ہوتے ہوئے البتہ میں نے اس حقیقت کو ذہن میں رکھا کہ ڈونلڈٹرمپ افغانستان سے اپنی افواج نکالنے کو بے چین ہے۔اسے گماں ہے کہ اٹھارہ سال سے جاری جنگ کے خاتمے کا بندوبست اسے 2020کا صدارتی انتخاب جیتنے میں بے پناہ آسانی فراہم کرے گا۔ٹرمپ پاکستان کی بھرپور معاونت کے بغیر افغانستان میں اپنی پسند کا امن قائم ہوتا دکھا ہی نہیں سکتا۔مودی سرکار نے مگر 5اگست کے روز بھارتی آئین کے آرٹیکل 370کے خاتمے کا اعلان کردیا۔ اس کے خلاف احتجاج کو روکنے کے لئے وادیٔ کشمیر کو ایک وسیع وعریض جیل میں تبدیل کردیا گیا ہے۔ پاکستان کشمیریوں پر مسلط ہوئے عذاب کو نظرانداز کرہی نہیں سکتا۔ ہماری ’’شہ رگ‘‘ کو جبر کے دبائو میںرکھتے ہوئے اس توجہ کی امید نہ باندھی جائے جو امریکہ کو افغانستان کے ضمن میں ہم سے درکار ہے۔
خالصتاََ افغانستان سے جڑے حقائق کو ذہن میں رکھتے ہوئے میں یہ باور کرنے کو مجبور ہوگیا کہ مودی کے ساتھ اپنی ملاقات کے دوران امریکی صدر مقبوضہ کشمیر کے ضمن میں ’’ہتھ ہولا‘‘ رکھنے کی درخواست کرے گا۔مودی نے اس حوالے سے کوئی ٹھوس وعدہ نہ بھی کیا تو ٹرمپ کی جانب سے کشمیر کا بھرپور انداز میں ذکر ہماری سفارتی کامیابی تصور ہوگا۔ غالباََ اسی کامیابی کی امید میں عمران خان صاحب کے قوم سے خطاب کے لئے ساڑھے پانچ بجے کا وقت متعین ہوا۔
پیر کی سہ پہر بالآخر مودی-ٹرمپ ملاقات ہوگئی۔ 45منٹ تک جاری رہی اس ملاقات کے اختتام پر ہمیں ٹرمپ کے منہ سے وہ الفاظ سننے کو ہرگز نہیں ملے جن کی ہمیں امید تھی۔ اس نے مسئلہ کشمیر کو ایک بار پھر پاکستان اور بھارت کا باہمی قضیہ قرار دیا اور اطلاع یہ بھی دی کہ بھارتی وزیر اعظم نے اسے بتایا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے حالات اس کے ’’کنٹرول ‘‘ میں ہیں۔
امریکی صدر کے بائیں ہاتھ بیٹھے نریندرمودی نے ہندی زبان میں سوالات کے جواب دئیے۔ ایسا کرتے ہوئے بھارتی وزیر اعظم نے یہ حقیقت بھی رعونت سے نظرانداز کردی کہ وہ جو بات کررہا ہے اسے ترجمہ کے ذریعے ٹرمپ کے کان تک نہیں پہنچایا جارہا۔اس کی ہندی سے پریشان ہوکر ٹرمپ نے برجستہ فقرہ کسا کہ He Speaks Very Good English۔مودی بجائے شرمسار ہونے کے اس فقرے سے بہت خوش ہوا۔ٹرمپ کے ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں لے کر اس پر دوستانہ چپت لگائی۔اس چپت کی بدولت ٹرمپ اور مودی محلے کے کسی تھڑے پر بیٹھے ’’جگری یار‘‘ نظر آئے۔بھارتی وزیر اعظم نے امریکی صدر کے ساتھ اپنی بے تکلفی کو پنجابی زبان والے ’’شوہدوں‘‘ کی طرح آشکار کیا۔ اس کی سینہ پھیلائی اِتراہٹ دیدنی تھی۔ میں اسے دیکھ کر پریشان ہوگیا۔
میرے دل خوش فہم نے اس کے باوجود یہ امید باندھ لی کہ ہمارے وزیر اعظم صاحب اپنی تقریر میں مودی-ٹرمپ ملاقات کا حوالہ دیتے ہوئے 22جولائی کو وائٹ ہائوس میں ہواثالثی کا وعدہ ضرور یاد دلائیں گے۔
گزشتہ 20دنوں سے میں نے ایک لمحے کو بھی ٹی وی نہیں دیکھا تھا۔ مودی-ٹرمپ ملاقات کا احوال اپنے سمارٹ فون کی بدولت دیکھنے کے بعد ریموٹ اٹھانے کو مجبور ہوگیا۔عمران خان صاحب کے خطاب کو اپنے کمرے میں تنہا بیٹھے ہوئے بہت توجہ سے سنا۔مزید مایوسی ہوئی۔جی واقعتا گھبراگیا۔
بنیادی پیغام مجھے یہ ملاہے کہ کشمیریوں پر مسلط ہوئی اذیت کے ازالے کے لئے ہمیں ستمبر کی 27تاریخ تک انتظار کرنا ہوگا۔ اس روز ہمارے وزیر اعظم اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے۔ان سے ایک روز قبل وہاںمودی کی تقریر ہوگی۔ پاکستان اور بھارت کے وزرائے اعظم کی تقاریر کے بعد مگر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں مقبوضہ کشمیر کے تازہ ترین حالات کے بارے میں پیش ہوئی کسی قرارداد کی ووٹنگ کے ذریعے منظوری نہیں ہوناہے۔ محض تقاریر ہوں گی۔
کشمیریوں پر نازل ہوئے عذاب میں فی الحال کمی فقط امریکی دبائو کی بدولت ہی لائی جاسکتی تھی۔ٹرمپ کے پاس ہر صورت یہ قوت موجود ہے کہ وہ افغانستان کے حوالے سے پاکستان کی معاونت کو یقینی بنانے کے لئے بھارت کو مجبور کرے کہ وہ کم از کم ’’لاک ڈائون‘‘ میں تھوڑی نرمی لائے۔ کشمیر میں زندگی ذرا ’’معمول‘‘ کے مطابق ڈھلتی نظر آئے۔ چند ہنگامے بھی ہوجائیں۔ احتجاجی مظاہرے کسی صورت جاری رہیں تو امریکی دبائو کے تحت ستمبر کے مہینے میں مودی-عمران ملاقات کا بندوبست بھی ہوسکتا تھا۔
ٹرمپ نے مگر مودی کے اس دعویٰ پر اعتبار کرلیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے حالات بھارت کے ’’قابو‘‘ میں ہیں۔ حالات پر اگر نئی دہلی کا کنٹرول ’’برقرار‘‘ ہے ۔ وہ قابو سے باہر جاتے نظر نہیں آرہے تو ٹرمپ اس ممکنہ ملاقات کی ضرورت محسوس نہیں کرے گا۔ 5اگست والے بھارتی اقدام کو بلکہ بآسانی ہضم کرلے گا۔پاکستان کو بھی ’’حقیقت پسند‘‘ رویہ اختیار کرنے کو مجبور کیا جائے گا۔
وطنِ عزیز کے بے شمار ’’حقیقت پسند‘‘مفکرین بہت تواتر سے ان دنوں پاکستانی معیشت کی زبوں حالی کا ذکر فرمارہے ہیں۔اس کی روشنی میں جنگ سے گریز کی تلقین ہورہی ہے۔ ’’مومن ہو تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی‘‘ والا مصرعہ بھلادیا گیا ہے۔ FATFکی جانب سے لہرائی تلوار کے تذکرے بھی ہیں۔’’وقت اچھابھی آئے گا‘‘کی امید دلاتے ہوئے ’’غم نہ کرزندگی پڑی ہے ابھی‘‘ والا ماحول بنایا جارہا ہے۔
حالات سے بہت مایوس ہوا میں بدنصیب خود کو فی الوقت عمران خان صاحب کے خطاب پر غیر جانب دارانہ تجزیے کے قابل محسوس نہیں کررہا۔ صرف یہ حقیقت یاد دلاتے ہوئے یہ کالم ختم کرنا ہوگا کہ بوسنیا کی آزادی’’بین الاقوامی رائے عامہ‘‘ کی بدولت نہیں ہوئی تھی۔ ہمارے وزیر اعظم یہ بات فراموش کرگئے کہ امریکہ کا ایک کلنٹن نامی صدر ہوا کرتا تھا۔اس نے سربیا کی نسل پرست حکومت کو فضائی بمباری کا نشانہ بناتے ہوئے بندے کا پتر بننے کو مجبور کیا تھا۔
آثار قدیمہ کی عدم توجہی ،تھل میں تاریخی عمارت کی حالت مخدوش
خوشاب نیوز ڈاٹ کام) نورپورتھل کے نواحی موضع جوڑاکلاں میں قیام پاکستان سے قبل کاتعمیر شدہ مندر آج بھی موجود محکمہ آثارقدیمہ کی عدم توجہ کے باعث مندر کی حالت مخدوش ہوکر رہ گئی، اہلیان علاقہ نے بتایاکہ دریائے جہلم کنارے آبادجوڑاکلاں پرانا قصبہ ہے قیام پاکستان کے عمل میں آنے کے بعد غیر مذاہب کے افراد یہاں آیا کرتے تھے لیکن بعد میں اس علاقہ میں اقلیت کے لوگ موجودنہ ہونے کی وجہ سے یہ مندر ویران ہوکر رہ گیا ہے اور نہ ہی کسی محکمہ نے آج تک کوئی توجہ کی ہے اس مندر کو یہاں کے لوگ دھرم سال کے نام سے بولتے ہیں۔
گراں فروشوں کے خلاف سخت کارروائی ہوگی

خوشاب نیوز ڈاٹ کام) خوشاب نیوز ڈاٹ کام) ڈپٹی کمشنر خوشاب مسرت جبیں نے ڈسٹرکٹ پرائس کنٹرول کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے تاجروں اور دوکانداروں کو متنبہ کیاہے کہ وہ بنیادی ضرورت کی اشیائے صر ف طے شدہ نرخوں کے مطابق فروخت کو یقینی بنائیں بصورت دیگر پرائس کنٹرول مجسٹریٹ ان کے خلاف سخت قانونی کاروائی کریں گے ، -وہ اپنے آفس کے کانفرنس روم میں اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے ان خیالات کا اظہار کر رہی تھیں اجلاس میں اشیائے خورونوش کی نئی قیمتیں مقرر کی گئیں ،روٹی (100گرام )فی 6 روپے ،نان (120گرام) فی 10 روپے اوردہی 75 روپے فی کلو گرام کے حساب سے فروخت کیا جا سکے گا ،آٹا اورگھی حکومت پنجاب کی پالیسی اور نوٹیفکیشن کے مطابق فروخت ہوگا -ہوٹلز ایسوسی ایشن کے صدر عبدالشکور کی جانب سے روٹی کی فی قیمت اضافہ کے مطالبہ پر صدر اجلاس نے کہا کہ حکومت پنجاب کی پالیسی کے مطابق روٹی کی قیمت میں اضافہ نہیں کیا جاسکتا -لہذٰافی روٹی چھ روپے کے حساب سے ہی فروخت کی جائے ۔۔
منگل، 27 اگست، 2019
اسرائیل کو مان لیجیے مگر۔۔۔

یہ مارچ 2019 کی ایک خوشگوار سہ پہر تھی۔ اسلام آباد کی ایک اہم شخصیت نے چند صحافیوں کو بلا رکھا تھا۔ 26 فروری کو انڈین طیاروں نے
پاکستانی حدود کی خلاف ورزی کی تھی جواباً پاکستانی فضائیہ نے نہ صرف انڈیا کے طیارے گرائے بلکہ ایک عدد پائلٹ کو بھی دبوچ لیا تھا جسے چند گھنٹوں میں ہی ہندوستان کے حوالے بھی کر دیا گیا۔ اس بڑے سے ہال میں بیٹھا ہر شخص بےچینی سے انڈیا اور پاکستان تناؤ کے اسباب، وجوہات، نتائج سے آگاہی چاہتا تھا۔ ایسے میں اس شخصیت نے چونکا دینے والا بیان دیا کہ ہندوستان اسرائیل کے ساتھ مل کر راجستھان کی سرحد پر حملہ کرنا چاہتا تھا جس کا توڑ بروقت انٹیلی جنس کے ذریعے ممکن ہوا اور پاکستان نے دنیا کو آگاہ کر کے انڈیا کو ان ارادوں سے باز رہنے کا اشارہ دیا جس کے باعث یہ خطرہ ٹل گیا۔‘ کمرے میں بیٹھا ہر شخص انہماک سے یہ گفتگو سن رہا تھا۔ سوال جواب کا سیشن شروع ہوا تو سوال پوچھا گیا کہ پاکستان کو اسرائیل کے ساتھ روابط رکھنے میں کیا قباحت ہے جب کہ بہت سے عرب ممالک بشمول ترکی کے اسرائیل کے ساتھ روابط ہیں اور ہم اس سلسلے میں کچھ زیادہ حساس کیوں ہیں؟ جواب میں اس اہم شخصیت نے برجستہ جواب دیا کہ ’دل نہیں مانتا، ہم اسرائیل کو کیسے تسلیم کر سکتے ہیں‘۔ یہ جواب سُن کر بہت سے چہروں پر اطمینان دوڑ گیا۔ ہم اسرائیل کو تسلیم کیوں نہیں کرتے؟ یہ وہ اہم سوال ہے جس کا جواب جذباتی بھی ہے اور تاریخی حیثیت کا حامل بھی۔ پاکستان کے وجود میں آنے کے بعد بانی مملکت محمد علی جناح ایک سال ہی زندہ رہ پائے۔ زندگی کے آخری 13 مہینوں میں اگر خارجہ پالیسی پر بابائے قوم کی کوئی اہم ہدایات سامنے آئیں تو وہ اسرائیل کے بارے میں تھیں۔ 1947 میں اسرائیل کے بانی ڈیوڈ بن گریون نے قائداعظم کو اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے سے متعلق ٹیلی گرام بھیجا تو انھوں نے اس کا کوئی جواب نہ دیا۔ ان کے اس رویے سے یہ اخذ کیا گیا کہ پاکستان اسرائیل کے ساتھ کوئی سفارتی تعلق قائم نہیں کرنا چاہتا۔ یاد رہے کہ اسرائیل بھی پاکستان کی طرح مذہبی بنیادوں پر وجود میں آیا اور دنیا کی پہلی یہودی ریاست کے نام سے جانا جاتا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ اسرائیل پاکستان کو واحد اسلامی جوہریریاست کے بطور اسرائیل کے لیے بڑا خطرہ تصور کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے نیوکلیئر بم کو "اسلامی بم" کے نام سے اسرائیل ہی نے موسوم کیا۔اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ فلسطین پر قبضے اور فلسطینیوں کے حوالے سے پاکستان کے خصوصی جذبات ہیں جن کا خیال پاکستان کی ہر حکومت نے ہمیشہ رکھا ہے۔ رابرٹ فسک اپنی مشہو زمانہ کتاب ’تہذیبوں کی عالمی جنگ‘ میں تحریر کرتے ہیں کہ پاکستان اسرائیل سے مختلف ادوار میں اسلحے کی خریداری کرتا رہا ہے۔ پاکستان کے سابق وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری اپنی کتاب ’نیدر ہاک نار اے ڈوو‘ میں پاکستان، ہندوستان تناؤ کے پس منظر میں اسرائیلی وزیر خارجہ سلوون شیلون سے استنبول میں ہونے والی خفیہ ملاقات کے بارے میں تحریر کرتے ہیں کہ پاکستان کو اسرائیل بھارت دفاعی گٹھ جوڑ اور اسرائیل کے جدید ہتھیاروں سے خطرہ تھا۔ دوسری جانب اسرائیل بھی پاکستان کی جدید میزائلوں کی رینج سے خائف تھا۔ پاکستان علاقائی تناظر میں اسرائیل سے رابطے کی اہمیت کو سمجھ رہا تھا جسے برادر اسلامی ملک ترکی نے بھانپا اور خفیہ ملاقات کے لئے موقع اور جگہ فراہم استنبول میں اسرائیل اور پاکستانی وزرِائے خارجہ کی ملاقات کا انتظام ترکی کی حکومت نے کیا تھا قصوری صاحب لکھتے ہیں کہ اسرائیلی وزیر خارجہ نے چھوٹتے ہی کہا کہ پاکستان فلسطین سے زیادہ فلسطین کا حامی کیوں ہے۔ وہ اپنی کتاب میں مزید تحریر کرتے ہیں کہ پاکستان اور اسرائیل کے مابین مختلف ادوار میں خفیہ تعلقات رہے ہیں مثلاً جنرل ضیاالحق کے دور میں پاکستان اور اسرائیل کے مابین انٹیلی جنس تعاون قائم رہا۔۔ خصوصاً مجاہدین کی استعداد بڑھانے کے لیے سی آئی اے افغان پائپ لائن تعاون موجود تھا۔ ایران عراق جنگ کے دوران انیس سو اسی سے تراسی تک ایران اسرائیل سے ہتھیار بھی خریدتا رہا ہے۔ بہرحال پاکستان کے لیے اسرائیل سے تعلقات رکھنا اہم ہے یااسرائیل کے لیے پاکستان کے ساتھ تعلقات بنانا۔۔ سوال اتنا سا ہے کہ ملکوں کی خارجہ پالیسیاں مفادات اور نظریات دونوں کے ساتھ وجود میں آتی ہیں۔ پاکستان اسرائیل کو تسلیم کر کے کیا فائدہ اٹھا سکتا ہے یہ ایک اہم سوال ہے تاہم جن ممالک کے ساتھ پاکستان کے دیرینہ تعلقات کئی دہائیوں سے قائم ہیں اُن کے ساتھ تعلقات نے پاکستان کو کیا فائدہ دیا؟ مسئلہ کسی بھی اور ملک کا نہیں، مسئلہ ہماری پالیسیوں کا ہے۔ کیا اسرائیل کو تسلیم کر لینے سے ہم برابری کے تعلقات قائم کر سکتے ہیں۔ کیا دنیا کے ڈیڑھ سو سے زائد ممالک کے ساتھ سفارتی تعلقات ہماری تجارت کو فروغ دے سکتے ہیں۔ کیا آج کوئی ایک بھی ملک کشمیر کے معاملے پر ہمارے موقف کی واضح حمایت کر رہا ہے۔ کیا ہماری تجارت بھارت چھوڑ بنگلہ دیش جتنی بھی ہو سکتی ہے؟ سو غیرضروری بحث سے نکلنے اور عملی سوچ اپنانے کا وقت ہے۔ ہمیں سوچنا ہے کہ ہمارا مفاد کیا ہے اور ہاں نظریات کی قربانی سے مفادات کی سودے بازی جنم لیتی
ہے۔ سودا لے اور دے کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ سوچیے ہمارے پاس دینے کو کیا ہے؟
زیادہ بار پڑھی گئی تحاریر
-
خوشاب نیوز ڈاٹ کام )کسان بورڈ ضلع خوشاب کے صدر اختر اسلام بالی ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ حکومت چھوٹے کاشتکاروں کو ریلیف دینے اور اُنھیں مسائ...
-
خوشاب نیوز ڈاٹ کام)محکمہ تعلیم ضلع خوشاب کے زیر اہتمام کشمیری مسلمانوں اور افواجِ پاکستان کیساتھ یکجہتی کے اظہار کیلئے گورنمنٹ ٹیکنیک...
-
فوٹو فائل خوشاب نیوز ڈاٹ کام)ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈسیشن جج خوشاب اشفاق آحمدگجرنےگزشتہ سال برہان ٹاؤن ٹاؤن جوہرآباد میں اپنے چار بچوں اور...
-
خوشاب نیوز ڈاٹ کام)قائدآباد پولیس نے فیصل آباد کے ٹرک ڈرائیور شوکت کیخلاف دھوکہ دہی اور فراڈ کے الزام میں مقدمہ درج کیا ہے ۔ قائدآباد...
-
خوشاب نیوز ڈاٹ کام) پرائم منسٹر آف پاکستان عمران خان کے ویژن کے مطابق ضلع خوشاب میں ضلعی سطح پر ”پلانٹ فار پاکستان ڈے“کے حوالے سے بڑ...
-
خالد مسعود خان ملتان کیسا ہے؟ برادر بزرگ نے ایئر پورٹ پر پہلا سوال یہی کیا۔ ہم چھوٹے شہر والوں کا یہ مسئلہ بڑا مشترکہ ہے۔ ہم کہیں بھی...








